Latest National, International, Sports & Business News

جنوبی سوڈان میں ہزاروں افراد مارے گئے: اقوامِ متحدہ

لڑائی سے بھاگ کے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹوبی لینزر

اقوام متحدہ: (آن لائن) اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کار نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے جنوبی سوڈان میں تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں اور یہ جنوبی سوڈان کیلئے تباہ کن ہفتہ رہا۔ ٹوبی لینزر جنوبی سوڈان کی شمالی ریاست یونٹی میں موجود ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا کہ جنوبی سوڈان میں امن دستوں کی تعداد تقریباً دگنی کر کے ساڑھے 12 ہزار کر دی جائے۔ اس سے قبل جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیئر نے کہا تھا کہ ان کی فوج نے اہم شہر بور کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔ باغیوں کے سربراہ رییک ماچر ہیں جن کا تعلق نوئر قبیلے سے ہے۔ وہ دنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر سلواکیئر سے نبرد آزما ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا کہ اسے کم از کم تین بڑی اجتماعی قبروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رابطہ کار لینزر نے بتایا کہ میرے خیال سے اب یہ بات بلا تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جب ہم نے اہم قصبوں کے ہسپتالوں میں دیکھا اور میں نے خود دارالحکومت کے ہسپتالوں میں زخموں کی نوعیت دیکھی تو یہ ایسی صورتِ حال نہیں ہے جس میں کہا جا سکے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ لینزر نے کہا کہ لڑائی سے بھاگ کے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد شاید لاکھوں میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی کا اندازہ اقوامِ متحدہ کے ایک کیمپ سے لگایا جا سکتا ہے جہاں ساڑھے سات ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ ہم صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے کیمپ کے اندر مختلف سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور میں نے انھیں کہا کہ عورتوں اور بچوں کی خاطر جہاں تک ممکن ہو حالات کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔ اقوامِ متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق نوین پلے نے کہا کہ دنکا اور نوئر قبیلوں کے افراد میں واضح خوف پایا جاتا ہے کہ انھیں ان کی نسل کی بنیاد پر قتل کر دیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کم از کم 80 ہزار افراد اس کشیدگی کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل صدر کیئر نے جوبا شہر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج نے بور شہر کو باغیوں سے چھڑا لیا ہے اور اب وہ بچے کھچے دشمنوں کا صفایا کر رہی ہے۔ صدر سلوا کیئر اور باغیوں کے سربراہ ماچر دونوں نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہیں۔ تاہم ماچر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل ان کے سیاسی حلیفوں کو رہا کیا جائے جبکہ کیئر کسی قسم کی پیشگی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تبصرے بند ہیں.