عالمی چیمپئن محمد آصف سمیت دیگر قومی اسنوکر کھلاڑیوں نے قومی اسپورٹس پالیسی کے باوجود عالمی اعزازات کے حصول پر نقد انعامات نہ دینے اور عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر بددل ہوکر احتجاج کا آغاز کر دیا۔ پاکستان بلیئرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے صدرعالمگیر شیخ نے کہا ہے کہ صدرمملکت اور وزیر اعظم کو منگل کو لکھے جانے والے خطوط کا جواب نہ آیا تواسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیا جائے گا، تفصیلات کے مطابق چوتھے رینکنگ اسنوکر کپ کے افتتاحی روزقومی کھلاڑیوں نے حکومت اورپاکستان اسپورٹس بورڈ کے رویے کے خلاف انوکھے انداز میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے بازؤوں پرسیاہ پٹیاں باندھ کر مقابلوں میں حصہ لیا، عالمی اسنوکر چیمپئن محمد آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسنوکر کھلاڑیوں نے قومی کھیلوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 11 ماہ میںانٹر نیشنل مقابلوں میں مجموعی طور پر5 میڈلز دلوائے جن میں3 گولڈ اور2 سلور میڈلز شامل ہیں، فیصل آباد کے علاقہ شیخ کالونی سے تعلق رکھنے والے محمد آصف نینومبر2012میں دبئی میںہونے والی انٹر نیشنل اوپن اسنوکر چیمپئن شپ میں رنر اپ رہ کر پاکستان کو پہلا سلور میڈل دلوایا۔ اسی ماہ محمدآصف نے بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں ہونے والی آئی بی ایس ایف عالمی اسنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں انگلینڈ کے گیری ولسن کو مات دے کر عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا اور پی ایس بی کی قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت عالمی ٹائٹل کے حصول پرنقدایک کروڑروپے کے مستحق ٹھہرے، اپریل 2013 میں بھارت کے شہر اندور میں ہونے والی 14 ویں ایشین انڈر21 اسنوکر چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے والے قومی کیوئسٹ محمد ماجد علی نے پاکستان کو سلور میڈل دلوایا، بعد ازاں اگلے ماہ عالمی چیمپئن اورماجد علی پر مشتمل 2رکنی قومی ٹیم نے قطر کے شہر دوہا میںہونے والی پہلی ایشین ٹیم چیمپئن شپ اور دوسری 6 ریڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتی اور قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت 50لاکھ روپے انعام کے حقدار ہوئے، محمد آصف اورمحمد سجادنے اکتوبر میں آئرلینڈ کے شہر کارلو میں منعقد ہونے والی آئی بی ایس عالمی 6ریڈز اینڈ عالمی ٹیم چیمپئن شپ میں شرکت کی اور پاکستان کو عالمی اعزاز سے ہمکنار کرکے ایک مرتبہ پھر ایک کروڑ روپے انعام وصول کرنے کا حق حاصل کیا۔
تبصرے بند ہیں.