شہر کراچی میں ہونے والے گھناؤنے جرائم میں غیر قانونی سموں کا بڑا عمل دخل ہے ۔۔ حکومت کئی کوششوں کے بعد بھی غیر قانونی سموں کی فروخت بند نہ کراسکی۔۔ سی پی ایل سی چیف کہتے ہیں ووٹر لسٹوں کے ذریعے سموں کو ایکٹیویٹ کیا جارہا ہے ۔۔ کراچی میں کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد ایک با پھر غیررجسٹرڈ موبائل سموں کی بندش کا شور مچا ہے ۔ ۔۔ انتظامی حکام ہوں یا پولیس ۔۔ ہر اہم اجلاس میں غیر قانونی موبائل سموں کو اغوا برائے تاوان ۔ بھتہ خوری میں اضافے کی وجہ ٹھہراتے ہیں ۔۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے قوانین کہتے ہیں کہ صرف موبائل آپریٹرز کمپنیوں کی فرنچائز یا پھر ان کے مقرر کردہ ڈیلرز مجاز ہیں سم فروخت کرنے کے ۔۔ مگر اس کے باوجود عام دکانوں پر یہ سمیں کھلے عام فروخت ہورہی ہیں ۔۔ سی پی ایل سی چیف احمد چنائے کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اسی فیصد سمیں غیر قانونی ہی ہیں ۔۔ موبائل فون سمیں کہیں سے بھی خریدی جائیں مگر اس کی پی ٹی اے کے نمبر 789 پر رجسٹریشن کرانا ضروری ہے ۔۔ مگر شاباش ہے ۔۔ جعلسازوں ۔۔ جنہوں نے اس کا بھی توڑ نکال لیا ہے ۔۔ اور وہ ووٹر لسٹوں کی مدد سے سم ایکٹو کروارہے ہیں ۔۔ حکام کہتے ہيں اس بار غير قانوني سموں کي فروخت کو ختم کرنے کے ليے سيليولر کمپنيوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
تبصرے بند ہیں.