وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک نہیں کئی گروہ ہیں۔ پشاور انتہا پسندوں کیلئے آسان ہدف ہے۔ دھماکے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیویارک میں انٹرویو دیتے ہوئے سرتاج عزیزنے واضح کیا کہ ملا برادر کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ملا برادرکی رہائی کا مقصد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مصالحت کے عمل کو تقویت دینا تھا۔ مشیر برائے خارجہ امورپاکستان سرتاج عزیز نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بہت سارے گروہوں کا مجموعہ ہے۔ وہ کوئی ایک علیحدہ اکائی نہیں۔ اس لیے وہ جہاں جسے بھی مذاکرات کیلئے ترجمان نامزد کریں گے، اس سے بات کریں گے اور وہی مقام دفترکہا جاسکتا ہے۔ ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ نائین الیون کے بعد سے پاکستان کوافغان تناظرمیں ہی دیکھا جارہا ہے، اب کوشش یہ ہے کہ امریکا سے پاکستان کے تعلقات آزادانہ حیثیت میں ہوں۔ افغانستان سے نیٹو فورسز انخلاء کرنے جارہی ہیں، وقت آچکا ہے کہ پاک امریکا تعلقات دوطرفہ حکمت عملی اختیارکریں
تبصرے بند ہیں.