تہران، بغداد، واشنگٹن:ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت سترہویں روز میں داخل ہو گئی، اسرائیلی وزیر دفاع نے ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنے کا دعویٰ کر دیا جس کی ایران نے تردید کی ہے اور علی لاریجانی کا پیغام جاری کیا ہے، تہران میں کئی مقامات پر دھماکے ہوئے، جوابی حملوں نے اسرائیل میں تباہی مچا دی، عراق میں امریکی سفارتخانے پر پھر راکٹ و ڈرون حملے کیے گئے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے نیٹو ارکان اور دوسری طاقتوں سے کی گئی اپیل رائیگاں گئی، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ کے بعد یورپی یونین نے بھی اپنا جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شکوے شکایات پر اتر آئے۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دو ٹوک کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے لیے بند رہے گی، امریکا کے ساتھ بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں نہ جنگ بندی کے لیے کوئی بات کی ہے، ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے مسلم ممالک کے نام کھلا خط لکھا ہے اور امریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف ساتھ نہ دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، ایران میں شہادتیں 1500 سے تجاوز کر گئیں، لبنان میں 900 کے قریب شہری شہید ہو چکے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سکیورٹی چیف ڈاکٹر علی لاریجانی کو حملے میں شہید کر دیا گیا ہے، گزشتہ رات حملے میں علی لاریجانی کو قتل کیا گیا، ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی تاہم ایرانی میڈیا نے اسرائیلی دعویٰ کی تردید کر دی ہے۔ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کا بیان جلد جاری کیا جائے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری علی لاریجانی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ میں ایرانی بحریہ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ ایرانی بحریہ کی قربانیاں عالمی طاقتوں کے خلاف جاری جدوجہد کا اہم حصہ ہیں، شہدا کی یاد ہمیشہ ایرانی قوم کے دلوں میں زندہ رہے گی، قربانیوں سے مسلح افواج کے ڈھانچے کو مزید مضبوطی ملے گی۔قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔
تبصرے بند ہیں.