لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرپٹ افسروں کو ایس ایچ او نہ لگانے کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں آئی جی پنجاب نے امن وامان کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جرائم کی مجموعی صورتحال میں واضح کمی آئی ہے۔مریم نواز شریف نے کرپشن کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے بدنام پولیس افسروں کو ایس ایچ او نہ لگانے کا حکم دیا اور کرپٹ پولیس آفیشل کیخلاف سخت رویہ اپنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے آئی جی کو بدعنوان عناصر کی چھانٹی کرنے کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بچوں اور خواتین کیخلاف کرائم کے مکمل کنٹرول کیلئے پلان طلب کرتے ہوئے بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں زیروٹالرنس پالیسی اپنانے کا حکم دیا ہے۔اجلاس میں ڈولفن پولیس کا آپریشنل کنٹرول متعلقہ پولیس سٹیشن سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پنجاب پولیس کو باڈی کیم سے لیس کرنے کیلئے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی، قیدی کی وین میں جی پی ایس اور کیمرے نصب کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات پر سخت کارروائی کا حکم دیا اور نقب زنی کے واقعات میں کمی کیلئے بھرپور کارروائی کی ہدایت کی، انہوں نے شیخوپورہ میں جرائم کے مکمل خاتمے کیلئے آپریشن کلین اپ کی ہدایت بھی کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈکیتی، قتل، چھینا چھپٹی، چوری اوردیگر جرائم میں کمی ہوئی ہے، ڈکیتی میں 54 فیصد، قتل میں 35 فیصد، کار ڈکیتی میں 46 فیصد، بائیک چوری میں 53 فیصد کمی آگئی۔لاہور میں قتل کے واقعات میں 43 فیصد، ڈکیتی کے واقعات میں 32 فیصد، کارڈ کیتی 43 فیصد، بائیک چوری کے واقعات 54 فیصد کم ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ جس ضلع میں جرائم کی شرح زیادہ ہوگی وہاں ڈی پی او سے بازپرس کی جائے گی، بچے اور خواتین میری ریڈ لائن ہیں، ان کے خلاف جرائم پر کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا، صوبے میں امن وامان پہلی ترجیح ہے، عوام کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کریں گے۔
تبصرے بند ہیں.