تھائی وزیراعظم شین اوترا کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آ گئی۔ مشتعل مظاہرین کا ایک گروپ گورنمنٹ ہائوس میں گھس گیا۔
بنکاک: () دارالحکومت بنکاک میں جاری وزیراعظم کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مشتعل مظاہرین کا ایک گروپ رکاوٹیں ہٹاتا ہوا گورنمنٹ ہائوس میں گھس گیا اور شدید نعرہ بازی کرتا رہا۔ مظاہرین دو فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شینا وترا شمالی شہر چیانگ رائے کے دورے پر پہنچیں تو حامیوں کی جانب سے ان کا پرجوش استقبال کیا گیا اور انہیں پھول پیش کئے گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرین نے وزیراعظم یِنگ لک شناواترا کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے فوج پر اُمیدیں لگا لی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو کسی ایک فریق کا ساتھ دینا ہو گا۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے سابق نائب وزیراعظم سوتھیپ تھاؤگسوبان نے کہا ہے کہ پولیس اور عسکری سربراہ ان سے ملاقات کریں اور ملک میں جاری اس بحران میں کسی فریق کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ جبکہ فوج نے کہا ہے کہ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتی تاہم ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ واضع رہے کہ تھائی لینڈ میں فوج گزشتہ 80 برس کے دوران 18 مرتبہ اقتدار پر قبضہ کر چکی ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔ فوج نے ہی 2006ء میں یِنگ لک شناواترا کے بھائی تھاکس شناواترا کی حکومت کا تختہ بھی اُلٹ دیا تھا۔ تھاکسن شناواترا نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی ہے۔
تبصرے بند ہیں.