کراچی: کے ای ایس سی نے17 اگست سے کراچی کے تمام رہائشی و تجارتی صارفین سمیت صنعتی زونز میں10سے13گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 7 گھنٹے تھا، کے ای ایس سی کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے500ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود کے ای ایس سی کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، اعلامیے کے مطابق مختلف حکومتی ادارے کے ای ایس سی کے84ارب روپے کے مقروض ہیں جبکہ بجلی کے نرخوں کی مد میں پائے جانے والے فرق کے تحت وفاقی حکومت نے کے ای ایس سی کو43ارب60کروڑ کی ادائیگی کی ہے، کے ای ایس سی نے اس سلسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور میڈیا کی مدد سے کی جانے والی اپیلوں کے باوجود وفاقی حکومت کے ای ایس سی کو واجبات کی ادائیگی نہیں کررہی ہے جس کے سبب کے ای ایس سی لوڈشیڈنگ کے موجودہ دورانیے میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، کے ای ایس سی نے اعلان کیا ہے کہ17اگست سے شہر بھر میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رہائشی، تجارتی اور صنعتی زونز کو ختم کردیا جائے گا اور پورے شہر میں یکساں لوڈشیڈنگ کی جائے گیجاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہفتے سے شہر بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ یکساں طور پر10سے13گھنٹے ہوگاجاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہفتے سے شہر بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ یکساں طور پر10سے13گھنٹے ہوگا، کے ای ایس سی کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران کراچی کو بجلی کی فراہمی کیلیے کے ای ایس سی نے فرنس آئل کی خریداری کیلیے بینکوں سے خطیر قرضے حاصل کیے جن کی ادائیگی وفاقی حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے والے واجبات کے ذریعے کی جانی تھی، اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ فرنس آئل کی خریداری کیلیے کم از کم7ارب روپے کی ادائیگی کرے تاہم اس درخواست کو بھی تاحال منظور نہیں کیا گیا ہے، واضح رہے کہ ماضی میں بھی کے ای ایس سی حکام وفاقی حکومت سے واجبات کی وصولی اور سستے ایندھن کے حصول کیلیے لوڈشیڈنگ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے، اس سلسلے میں خاص طور پر صنعتی زونز میں لوڈشیڈنگ ملکی معیشت کیلیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور حکومت کے ای ایس سی کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوجاتی ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کے ای ایس سی نے موجودہ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کیلیے یہی حربہ استعمال کیا ہے۔ اعلامیے کے آخر میں کہا گیا ہے کہ کے ای ایس سی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ملک کے سب سے بڑے معاشی حب سے متعلق اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے گی اور گردشی قرضوں کے تصفیے کے معاملے میں کے ای ایس سی کے ساتھ بھی وہی طرز عمل اختیار کرے گی جو توانائی کے شعبے کی دیگراداروں کے ساتھ کیا گیا ہے، علاوہ ازیں کے ای ایس سی نے اپنے صارفین سے گزارش کی ہے کہ وہ پرسکون اور پر امن رہیں کیونکہ ادارہ حکومت پر واجب الادا اپنے بقایا جات کی وصولی کی کوششیں جاری رکھے گا اور بقایاجات کی ادائیگی کی صورت میں اضافی لوڈشیڈنگ کو ختم کردیا جائے گا۔
تبصرے بند ہیں.