Latest National, International, Sports & Business News

پرال ٹھیکہ؛ ایف بی آر ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف اپیل کریگا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پاکستان ریونیو آٹو میشن لمیٹڈ(پرال) کو کنٹریکٹ دینے کے لیے پیپرا رولرز کی خلاف ورزی کے بارے میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پرال کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے دیے جانے والے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاہم چیئرمین ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد اپیل دائر کی جائے۔ اس ضمن میں دستیاب دستاویز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی منظوری ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کے حالیہ اجلاس میں تمام ممبران کی طرف سے متفقہ طور پر دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے پرال کو پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرکے ٹھیکہ دینے کے حوالے سے دیے جانے والے فیصلے کے معاملے کی انکوائری کرنے کے احکام ضرور جاری کیے گئے ہیں مگر قومی احتساب بیورو معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے مقرر کردہ معیار اور حدود قیود سے تجاوز کررہا ہے۔ دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی بورڈ ان کونسل نے کہا ہے کہ پرال کو پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکہ دینے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو کی مداخلت کی ضرورت نہیں تھی اور یہ کیس نیب سے تحقیقات کے لیے مناسب نہیں تھا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے ساتھ مکمل ممکنہ تعاون کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے پرال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امتیاز احمد خان نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے پرال کو کنٹریکٹ دیتے وقت پیپرا پروکیورمنٹ رولز پر مکمل عملدرآمد کیا گیا ہے اور جب سے اس منصوبے کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے ایف بی آر کے ممبران نے پرال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایکس آفیشیٹو ممبر کے طور پر پرال سے کسی قسم کا کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔اجلاس میں ممبر ایڈمن شاہد حسین جتوئی کی طرف سے بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے دیے جانے والے فیصلے میں معاملے کی انکوائری کرانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور قومی احتساب بیورو معاملے کی انکوائری کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے مقرر کردہ قواعد وضوابط اور حدود و قیود سے تجاوز کر رہا ہے اور قومی احتساب بیورو وہ ریکارڈ اور تفصیلات بھی مانگ رہا ہے جس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں مذکورہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے اور تبادلہ خیال کے بعد تمام ممبران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ریونیو آٹو میشن لمیٹڈ (پرال) کو کنٹریکٹ دینے کے لیے پیپرا رولرز کی خلاف ورزی کے بارے میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پرال کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے دیے جانے والے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی تاہم چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ہدایت کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد اپیل دائر کی جائے

تبصرے بند ہیں.