گلگت:گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب نے ایک بار پھر تباہی مچادی، متعدد دیہات زیر آب آ گئے، گاؤں راؤشن کی آبادی محصور ہو گئی،200 سے زائد افراد ریسکیو کر لیے گئے۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے لوگوں کا شدید مالی نقصان ہوا تاہم جانیں محفوظ ہیں۔فیض اللہ نے بتایا کہ غذر گوپس کے علاقہ تلی داس کے مقام پر گلیشئیر پھٹ گیا جس سے دریا کا بہاؤ رک گیا، مزید نقصانات کا خدشہ ہے، وزیراعلیٰ خود مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلیشیئر پھٹنے سے پانی ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا ہے، متصل دیہات مزید زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں، انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے افراد موقع پر موجود ہیں۔ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی افسر طاہر شاہ نے بتایا کہ اب تک متاثرہ علاقوں سے 200 کے قریب لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض لوگ ٹراما میں تھے، جن میں سے بعض کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا تھا، جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور ایمبولینس کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔طاہر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ دریائے غذر کے نیچے گلگت اور چلاس میں لوگوں کا انخلا شروع کیا گیا ہے اور شام تک آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔قبل ازیں ضلعی حکام نے بتایا کہ غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے دریائے غذر کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا ، کئی بستیاں سیلاب سے متاثر ہو رہی ہیں، عطا آباد جھیل جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لینڈسلائیڈنگ سے گلگت شندور روڈ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، تالی داس نالہ میں لینڈ سلائڈنگ دو اطراف سے ہوئی، تودے سے راؤشن گاؤں کی آبادی محصور ہوگئی۔
تبصرے بند ہیں.