لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے ایل پی جی کمپنیوں کی جانب سے اضافی پریمیم کی وصولی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اس عمل کو فوری طور پر روک دیا ہے۔عدالت نے اس معاملے پر اوگرا اور تمام لائسنس ہولڈر ایل پی جی کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔یہ حکم جسٹس مرزا وقاص رؤف نے لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل بابر مرتضیٰ خان کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا، درخواست گزار کی جانب سے صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 40 سے زائد ایل پی جی کمپنیوں کی جانب سے مارکیٹنگ کمپنیوں سے اضافی پریمیم کے نام پر غیر قانونی وصولیاں کی جا رہی ہیں، جو قانون کے منافی ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اضافی پریمیم کی وصولی کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث شہری مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ گیس عام آدمی کے استعمال کی بنیادی ضرورت ہے، اسے کمپنیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔عدالت نے اوگرا اور متعلقہ ایل پی جی کمپنیوں سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک اضافی پریمیم کی وصولی روکنے کا حکم برقرار رکھا۔
تبصرے بند ہیں.