کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کورٹ مارشل کے تحت سزا پانیوالے گمشدہ افراد کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پروزارت دفاع اورمتعلقہ اداروں کو22اکتوبرتک حتمی مہلت دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ اگر آئندہ سماعت پرعدالتی حکم کی تعمیل نہ کی گئی توکوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس ندیم اخترکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے روشن دین، جلال، جیان خان،مہر علی اورمشتاق احمدکی درخواستوں کی سماعت کی،ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے بینچ کوبتایاکہ انھیں جج ایڈووکیٹ جنرل کورفائیوکی جانب سے خط موصول ہواہے ، جس میں ضروری موادپیش کرنے کیلیے مہلت طلب کی گئی،تاہم درخواست گزاروںکے وکیل شہریارنے اس کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ پہلے ہی بہت تاخیرہوچکی ہے، مزیدمہلت دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا،فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ متعلقہ حکام کچھ موادپیش کرنا چاہتے ہیں اس لیے انھیں آخری بار یہ مہلت دی جاتی ہے کیونکہ عدالت کے فیصلے پراس طرح عمل نہیں کیا جارہا جیسا کہ کیا جاناچاہیے تاہم اگرآئندہ سماعت پربھی مطلوبہ ریکارڈپیش نہ کیاگیاتوعدالت جوفیصلہ مناسب سمجھے گی وہ سنادے گی۔درخواست گزاروں کے عزیز جاسوسی کے الزام میںگرفتارکیے گئے ہیں اور ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات زیرسماعت ہیں،درخواست گزاروںکی جانب سے نورنازآغانے سویلین کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کی مخالفت کی تھی جس پرعدالت نے سویلینزکیخلاف کورٹ مارشل کامکمل ریکارڈپیش کرنے کی ہدایت کی تھی،بدھ کوسماعت کے موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ اورایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ بھی پیش ہوئے۔درخواست گزاروں مشتاق احمد،جیان ضان، جلال، عبدالجبار اور حاجی محمدکی جانب سے دائرکردہ مختلف درخواستوں میں وزارت دفاع،کمانڈنگ افسر ہیڈ کوارٹر حیدر آباد ایم آئی 945،کو کمانڈر کراچی،کمانڈنگ افسر ہیڈ کوارٹر کور 5اور دیگر فریق بناتے ہوئے کہاگیاکہ مشتاق احمدکاکزن مولا بخش25مئی2010،جیان خان کا بھائی محمدبخش جنوری 2011،جلال کا بھائی وسایو6جنوری2012اورحاجی محمد کا بھائی مقیر محمد 2 ستمبر 2011سے لاپتہ ہے۔
تبصرے بند ہیں.