کانگریس نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پر راہول گاندھی کی سکیوریٹی میں کوتاہی کا الزام عائد کیا۔ سینئر کانگریس قائدین نے وزیرداخلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں دعویٰ کیا کہ 10اپریل کو جب پارٹی صدر راہول گاندھی امیٹھی میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کر رہے تھے تو ایک سبز رنگ کی لیزر لائٹ سے ان کے سر پر نشانہ لگایا گیا۔ قائدین نے دعویٰ کیا کہ اس مختصر سے وقفہ میں کم از کم 7مرتبہ اس شعاع سے نشانہ لگایا گیا جبکہ دو مرتبہ ان کی کنپٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لیزر لائٹ کسی مہلک ہتھیار جیسے اسنائپر گن سے نکلی ہوگی۔ صدر کانگریس کی سکیوریٹی میں کوتاہی پر اترپردیش انتظامیہ کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر راہول گاندھی کی سکیوریٹی کو یقینی بنانا آپ کی حکومت اور وزارت کی اولین ذمہ داری ہے۔ آپ کے دفتر کو پتہ ہوگا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی ہائی رسک ٹارگٹ ہیں اور 2019کے انتخابات کی جاریہ وسیع تر مہم کے دوران کبھی بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ ہم اس بات کو دہراتے ہیں اور ایک بار پھر آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملہ کی تحقیقات کرائیں اور اگر کوئی خطرہ ہو تو اسے دور کریں۔ پارٹی نے کہا کہ ہم آپ سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ مکمل سکیوریٹی پروٹوکول کو یقینی بنایا جائے اور اسپیشل پروٹیکشن گروپ اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے علاقہ کی مناسب چھان بین کرائی جائے جو کہ ان کا فرض ہے۔ اسی دوران نئی دہلی سے موصولہ علیحدہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزارت داخلہ نے یہ بتاتے ہوئے کہ اسے راہول گاندھی کی سکیوریٹی میں مبینہ کوتاہی کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی کا کوئی مکتوب ہنوز موصول نہیں ہوا ہے‘ آج کہا کہ اس نے اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کو یہ ہدایت دے دی ہے کہ وہ اس معاملہ میں تحقیقات کرے۔ اس نے پتہ چلایا ہے کہ ویڈیوکلپ میں جو سبز روشنی نظر آرہی ہے وہ امیٹھی میں پارٹی کے فوٹوگرافر کی جانب سے استعمال کردہ موبائیل فون کی تھی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان اے بھارت بھوشن نے بتایا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی کی سکیورٹی میں مبینہ کوتاہی کے بارے میں وزارت داخلہ کو کوئی مکتوب موصول نہیں ہوا ہے۔بہرحال جیسے ہی وزارت داخلہ کی توجہ ان اطلاعات کی جانب مبذول کرائی گئی کہ کل امیٹھی میں ان کو سبز شعاع سے نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے‘ ڈائرکٹر (ایس پی جی) سے کہا گیا کہ وہ حقائق کا پتہ چلائیں۔ ایس پی جی نے پتہ چلایا کہ یہ پارٹی کے فوٹوگرافر کے موبائیل فون کی روشنی تھی۔ ڈائرکٹر(ایس پی جی) نے مرکزی وزارت داخلہ کو مطلع کیا ہے کہ انہوں نے اس واقعہ کی ویڈیو کلیپنگ کا بغور مشاہدہ کیا ہے اور کلیپنگ میں نظر آنے والی سبز روشنی اے آئی سی سی کے فوٹوگرافر کے موبائیل فون کی روشنی تھی جو امیٹھی میں کلکٹریٹ کے قریب راہول گاندھی کی نامہ نگاروں سے بات چیت کی ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ترجمان نے بتایا کہ صدر کانگریس کے شخصی عملہ کو تحقیقات کے بارے میں مطلع کردیا گیا ہے۔ ڈائرکٹر (ایس پی جی) نے توثیق کی ہے کہ سکیوریٹی کی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
تبصرے بند ہیں.