اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 2017 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی پر قابو پایا گیا، جس کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر ہوا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم، افواج پاکستان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں۔اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ریاست نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو دہشتگردی کے خلاف ریاست کا متفقہ فیصلہ تھا، وفاقی و صوبائی حکومتوں، افواج پاکستان اور تمام اداروں نے متحد ہوکر دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں کیں۔انہوں نے کہا کہ سوات سے بلوچستان اور جنوبی پنجاب تک دہشتگردی کے خطرات کا نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقابلہ کیا گیا اور ڈھائی سے 3 سال کے عرصے میں دہشتگردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، کراچی سے خیبر تک امن قائم ہوا اور ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو دوبارہ آباد کرنے اور ان سے مذاکرات کی پالیسی نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا، دہشتگردوں کی واپسی دراصل چار سالہ انسداد دہشتگردی کی کوششوں کا ریورسل تھا۔عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کیونکہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر اس جنگ میں مستقل کامیابی مشکل ہے، دہشتگرد سخت اہداف کے بجائے نرم اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، امام بارگاہوں، بچوں کی بسوں اور ٹرینوں پر حملے اس کی مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس جیسے حملے کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی، تاہم سکیورٹی اداروں نے آپریشن انتہائی مہارت سے مکمل کیا، دہشتگردی میں اضافے کی ایک وجہ پالیسی کا ریورسل اور بیرونی مداخلت بھی ہے، جبکہ دہشتگردی کی بیرونی معاونت کے شواہد موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوری بعد پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، تاہم ریاست نے ہر الزام کا عملی اور مدلل جواب دیا، تاہم واقعے کے صرف آدھے گھنٹے میں ایف آئی آر کا اندراج کئی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، وزیراعظم کی جانب سے شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش نے بھارتی بیانیے کو بے نقاب کیا۔عطا تارڑ نے کہا کہ جس قوم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانیں قربان کیں، وہ دہشتگردی کی حمایت کیسے کرسکتی ہے؟ پاکستان کے پاس دہشتگردی کے خلاف اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ٹھوس حقائق اور اعداد و شمار موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری پاکستان میں بھارتی مداخلت کا عملی ثبوت ہے، بھارت خود بیرون ملک کارروائیوں کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عملی جنگ لڑ رہا ہے،وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل محاذ کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی عناصر تخریب کاری کے ساتھ ساتھ ذہن سازی اور منفی بیانیہ بھی تشکیل دیتے ہیں، ڈیجیٹل ڈومین میں ایک پوسٹ کسی شخص کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، اس لیے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی فریم ورک ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سائبر سپیس میں دہشتگردی، خواتین کو ہراساں کرنے اور بچوں کے استحصال جیسے مسائل موجود ہیں، ڈیجیٹل دنیا میں کاؤنٹر ٹیررزم اور سائبر سکیورٹی کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے لیے سائبر کرائم ونگ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تبدیل کیا گیا ہے۔عطا تارڑ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے خلاف قانونی فریم ورک اور قانون نافذ کرنے کا نظام موجود ہے، تاہم اسے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، ریاست مخالف بیانیے اور ذہن سازی کے خلاف مؤثر نظام تیار کرنا ضروری ہے، جبکہ قانون سازی کے ذریعے ریاست اور معاشرے کو لاحق خطرات کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں بیانیہ سازی اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، ریاست مخالف بیانیہ بنا کر لوگوں کی ذہن سازی کرنے کے عمل کو روکنا ہوگا، دہشتگردی کے خلاف بیانیے کی جنگ میں ہول آف گورنمنٹ اپروچ ضروری ہے، وفاق اور تمام صوبوں کو مل کر ریاست مخالف ذہن سازی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونی ہاتھ کی بات شواہد اور قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری بھارتی مداخلت کا اہم ثبوت ہے، ریاست مخالف سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پر منفی مہمات کے خلاف قانون موجود ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی ریاست مخالف مواد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بیانیے کی جنگ میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، ریاست مخالف پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے میں صوبائی اسمبلیوں کا بھی اہم کردار ہے، جبکہ بلوچستان حکومت نے ریاست مخالف پروپیگنڈے کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔عطا تارڑ نے بتایا کہ وفاق اور صوبے مل کر ڈیجیٹل ڈومین میں ریاستی بیانیے کو مضبوط بنا رہے ہیں، حکومت نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے لیے باقاعدہ نیا شعبہ قائم کیا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا کے مواد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا کی گفتگو کو خودکار طور پر تحریری متن میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
تبصرے بند ہیں.