آئی سی سی کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آف سپنر سعید اجمل کا باولنگ ایکشن مشکوک قرار دیے جانے نے کرکٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کے سابق کرکٹرز اس کو بے وقت کی راگنی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
لندن (نیٹ نیوز) برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق سابق کپتان رمیز راجہ اور سابق آف سپنر توصیف احمد اسے بے وقت کی راگنی اور آئی سی سی کا دیر سے جاگنا قرار دیتے ہیں۔ دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق کے خیال میں اگر باولر قوانین کے مطابق بولنگ کرے تو اسے کوئی بھی نہ روکے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ یہ ایک نئی ہوا چل پڑی ہے۔ اگر آئی سی سی یہ سوچ رہی ہے کہ مشکوک باولنگ ایکشن والے تمام باولروں کو کھیل سے نکال دیا جائے یا ان پر سخت دباو رکھا جائے تو یہ کام اسے بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا ، وہ بڑی دیر سے جاگی ہے۔ سعید اجمل پا اعتراض ایسے ہی ہے کہ کوئی طالب علم فرسٹ ڈویڑن میں امتحان پاس کر لے اور اسے اسی کلاس کا دوبارہ امتحان دینے کے لیے کہا جائے۔ سابق آف سپنر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ سعید اجمل کا باولنگ ایکشن پانچ سال قبل رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد سے وہ کسی اعتراض کے بغیر بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے تھے اب اس مرحلے پر ان کے باولنگ ایکشن کو مشکوک کہنا زیادتی ہے۔ توصیف احمد کا کہنا ہے کہ سعید اجمل کا متبادل باولر تیار کرنے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ انھیں ڈومیسٹک کرکٹ میں جو بھی آف سپنر نظر آئے ہیں ان کے باولنگ ایکشن میں کچھ نہ کچھ خامی موجود ہے۔ ثقلین مشتاق کے خیال میں قوانین سب باولروں کے لیے یکساں ہیں۔ باولروں کے بہت زیادہ بولنگ کرنے سے ان کے پٹھے متاثر ہوں تو پھر تکنیکی مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کوچنگ سٹاف کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس کو مشکل سے نکالے۔ –
تبصرے بند ہیں.