ملک بھر میں موبائل فون درآمدکنندگان کے موبائل کی درآمد پر ڈیوٹی لگانے کے لیے جاری مبہم نوٹیفکیشن کا غلط استعمال کرکے کروڑوں روپے کی ڈیوٹی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ون ایل ٹی یو کراچی سیما شکیل کی طرف سے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر نمبر CIR/Z-I/LTU/2013 میں کیا گیا ہے۔ لیٹر میں کہا گیاکہ 13 مئی 2013 کوجاری کردہ ایس آر او نمبر 460(I)/2013 مبہم ہے جس کی وجہ سے درآمد کنندگان کی طرف سے موبائل فون کی درآمد پر پورا ٹیکس ادا نہ کر کے بڑے پیمانے پر ٹیکس بچایا جا رہا ہے، مذکورہ ایس آر او میں ایف بی آر نے درآمدی موبائل فون کو ڈیوٹی وصولی کے لیے مختلف کٹیگریز میں تقسیم کیا ہے اور ہر کٹیگری پر الگ شرح سے فکس ٹیکس عائدہے تاہم سی کٹیگری میں آنے والے اسمارٹ فونز کیلیے5خصوصیات بشمول 10میگا پکسل یازاء کے حامل 1یا 2 کیمرے،4.2 انچ یا اس سے بڑی ٹچ اسکرین، فور جی بی یا زائد کی بنیادی میموری، آئی او ایس، اینڈرائڈ، وی 2.3 ، اینڈرائڈ جنجر بریڈ، ونڈوز یا بلیک بیری آر آئی ایم اور 2 گیگا ہرٹ یا زائد صلاحیت کا حامل ڈوئل کور وغیرہ وضع کی گئی ہیں ۔تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کسی ایک بھی خصوصیت یا تمام خصوصیات کا حامل سیٹ سی کٹیگری میں آئے گا، اس ابہام کا درآمدکنندگان ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں اور سی کٹیگری کیلیے عائد 500 روپے فی سیٹ کے بجائے بی کٹیگری میں 250 روپے فی سیٹ ڈیوٹی ادا کر کے کلیئر کرارہے ہیں۔ لیٹرمیں ایف بی آر سے درخواست کی گئی ہے کہ اسمارٹ فونز کی کلاسیفکیشن کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو دور کیا جائے جبکہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو ایل ٹی یو کراچی یاسمین سعود نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو درخواست کی ہے کہ مذکورہ ابہام دور کرنے کیلیے 13 مئی 2013 کو جاری کردہ ایس آراو نمبر 460(I)/2013میں ترامیم کی جائیں۔
تبصرے بند ہیں.