Latest National, International, Sports & Business News

وزیراعظم کو عدلیہ کے بارے میں درست معلومات نہیں دی جارہیں، سندھ ہائیکورٹ

وزیر اعظم نوازشریف کی جانب سے سندھ کی عدلیہ میں خوف اور دہشت کے اثرات کے متعلق بیان سے صوبے کی عدلیہ میں انتہائی مایوسی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ جمعے کو مختلف عدالتی ذرائع نے بتایاکہ ملک کے انتظامی سربراہ کی جانب سے عدلیہ میں خوف اور دباؤ کا تاثر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں عدلیہ کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیںکی جارہیں، ذرائع نے بتایاکہ وزیراعظم کی جانب سے نعمت علی رندھاوا ایڈووکیٹ کے مقدمے کے جو کچھ کہا گیا اس کا اعلیٰ عدلیہ نے فوری نوٹس لیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’’کراچی میںجج خوفزدہ ہیں، ٹارگٹ کلرنے اعتراف کیا اور مجسٹریٹ نے اس کے حق میں رپورٹ لکھی‘‘، ان رپورٹس کی اشاعت کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مقبول باقر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور پراسیکیوٹرکو نعمت علی رندھاوا قتل کیس کے مکمل ریکارڈ سمیت طلب کیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس مقبول باقر نے خود جوڈیشل مجسٹریٹ اور پراسیکیوٹر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اوران سے مختلف سوالات پوچھے اور جرح بھی کی، چیف جسٹس مقبول باقر نے آبزروکیا کہ دونوں کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں کہ گواہ نے جو کچھ کہا مجسٹریٹ نے وہی قلمبند کیا ہے ، فاضل چیف جسٹس نے آبزرو کیا کہ مذکورہ مقدمہ قانون کے مطابق چلایا جارہا ہے اوراس میں کسی قسم کی بے قاعدگی کے شواہد نہیں ملے۔سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے مختلف حلقوں نے اس تاثر کا اظہار کیاکہ عدلیہ بے خوف ہوکر اورججز اپنی جانوں پر کھیل کرمقدمات کی سماعت کررہے ہیں اور مجرموں کوسزائیں سنا ئی جارہی ہیں، مگر یہ حکومت ہے جو بوجوہ سزا یافتہ قیدیوں کی سزائوں پر عمل درآمد سے گریز کررہی ہے، اس میں حکومتی مشنری کا خوف اور یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی امداد بھی شامل ہوسکتاہے لیکن حکومت کی جانب سے اپنی ذمے داریوں سے گریز کے لیے عدلیہ کا تشخص خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ، ذرائع کے مطابق سندھ کی عدلیہ نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی اہم فیصلے دیے ، موجودہ چیف جسٹس مقبول باقر خود اس کی روشن ترین مثال ہیں ، جو بدترین دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود استقامت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق چیف جسٹس مشیرعالم جوکہ اب سپریم کورٹ میں فرائض انجام دے رہے ہیں متعدد مواقع پرواشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عدالتوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے پھانسی کے فیصلوں پرعمل کرے ، ذرائع کے مطابق میڈیا کے ایک گروپ کی جانب سے ماتحت عدلیہ کے خلاف ایک مہم چلائی جارہی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں فرائض انجام دینے والے ججوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے، ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے الزام آرائی کے بجائے مربوط حکمت عملی اوراس پرعملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں.