حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹی فکیشن واپس لے لیا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بجلی کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کرنے کیلئے سمری نیپرا کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی پر150 ارب کی سبسڈی بھی دی جارہی ہے۔ چیئرمین نیپرانے بتایا کہ بجلی کی قیمتوں کے تعین کے لیے دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وفاقی حکومت نیپرا کو دوبارہ قیمتوں کے تعین کیلئے سمری بھیجنا چاہ رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے آپ حالیہ اضافے کے نوٹی فکیشن کو منسوخ کریں ، عوام پر جو بم گرایا گیا اس کا کیا ہوگا،اگر حکومت ایسے نوٹی فکیشن جاری کرے گی تو عدالت کو منسوخ کرنا پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے نیپرا کو آزاد نہیں رہنے دیا۔ وزیر پانی بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیپرا کو درخواست کریں گے کہ وہ قانون کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ رینٹل پاور کیس میں آپ نے خود کہا ٹیرف کا تعین حکومت نہیں بلکہ نیپرا کا اختیار ہے،عدالت نے آپ کے دلائل کو تسلیم کیا ، اب آپ خود اپنے دلائل کے خلاف کام کررہے ہیں، نیپرا کواعتماد میں لیے بغیرجو نوٹی فکیشن جاری ہوا اس کی قانونی حیثیت اور نتائج کیا ہوں گے۔ چیئرمین نیپرا کے مطابق گیس سے کم لاگت پر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کھاد فیکٹریوں کو بہت زیادہ سبسڈی دی جارہی ہے، مگربے چارے عام کسان کا کیا فائدہ ہوتا ہے، پن بجلی مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے، کیا حکومت کی کوئی پالیسی نہیں۔ وزیرپانی بجلی نے بتایا کہ یہ پرانی پالیسی ہے جس پر نظر ثانی کررہے ہیں، فرٹیلائزر کو گیس پر دی جانے والی سبسڈی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد کا کہنا تھا کہ مجموعی پیداوار کی دس فیصد گیس پاور سیکٹر کو جاتی ہے۔
تبصرے بند ہیں.