اسلام آباد: پیپلزپارٹی نے کہاہے کہ موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ کی پیداوارہے،ہم اسے تسلیم نہیں کرتے،جمہوریت کے تسلسل اوراستحکام کیلیے قبول کیا ہے۔ ہم پی این اے کاکردار ادا نہیں کرنا چاہتے، فرشتوں نے ووٹ ڈالے، نتائج تبدیل کیے گئے، الیکشن کمیشن ریکارڈ سنبھال کررکھے، ہم ایک ایک حلقے کے حقائق عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنمائوں سینیٹ میں قائدحزب اختلاف چوہدری اعتزازاحسن، سابق وفاقی وزیر قمرزمان کائرہ، فرحت اللہ بابراورچوہدری منظوراحمد نے جمعے کویہاں پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعتزازاحسن نے این اے 139 قصور میں انتخابات کے حوالے سے سنسنی خیزانکشافات کیے۔ انھوں نے کہاکہ ہماراشروع ہی سے یہ موقف رہاہے کہ 11مئی 2013 کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے مگر ہم 1977 جیسے ایجی ٹیشن والاماحول نہیں بناناچاہتے، موجودہ انتخابات میں فرشتوںنے ووٹ ڈالے، این اے 139قصورسے پیپلزپارٹی کے امیدوارچوہدری منظوراحمدنے انتخابی عذرداری داخل کی ہے، سیف الرحمٰن ٹریبونل کے جج تھے ان کے حکم کے تحت انتخاب کے تمام موادکی انسپکشن ہوئی، اس میںبے شمارانتخابی بے قاعدگی کاانکشاف ہواہے، سیف الرحمٰن پر اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مستعفی ہوگئے۔بے شمار کاؤنٹر فائل ایسے ملے ہیں جن پرووٹرکانشان انگوٹھا یا دستخط نہیں ہیں، بے شمارمقامات پرکائونٹرفائل کم اوربیلٹ پیپرزیادہ جاری کیے گئے، بیلٹ پیپربعدمیں ڈبوںمیں ڈالے گئے۔ این اے 139 سے پی پی پی کے امیدوار چوہدری منظوراحمد نے کہاکہ این 139 میں 272 پولنگ اسٹیشن تھے،159پولنگ اسٹیشنوں پرصوبائی اسمبلی اورقومی اسمبلی کے ووٹوں کی تعدادمیں فرق ہے۔ اعتزازاحسن نے کہاکہ انتخابات میں دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلا ہوا ہے، ہزاروں ووٹ جعلی ڈالے گئے ہیں، ہم نے حلقے منتخب کرلیے ہیں مزید حقائق سامنے لائیں گے۔ الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ ریکارڈ سنبھال رکھے،ن لیگ کامینڈیٹ جعلی ہے، ہم نے اسے تسلیم نہیں کیا مگرمینڈیٹ پراحتجاج کرنے سے گریز کیا کیونکہ اس سے جمہوریت کمزورہوتی ہے، ہم پی این اے نہیں بننا چاہتے تھے،انھوںنے کہاکہ جن ریٹرننگ آفیسرزنے جعلی ووٹوں پرنتیجہ دیا اور انتخابی بے قاعدگیوں کے مرتکب ہوئے ہیں ان کیخلاف الیکشن کمیشن کوکارروائی کرنی چاہیے۔ ایک سوال پر انھوںنے کہاکہ ہم فرینڈلی نہیںبلکہ حقیقی اپوزیشن ہیں۔
تبصرے بند ہیں.