کراچی: وفاقی حکومت نے کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں ،اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر جوائنٹ ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔ منگل کو گورنر ہاؤس کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف کریں گے۔ اجلاس میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ جوائنٹ ٹارگٹڈ آپریشن سندھ حکومت کی نگرانی میں پولیس اور رینجرز کرے گی اور پولیس اور رینجرز کو وفاقی وزارت داخلہ اور تمام خفیہ ایجنسیوںکی معاونت حاصل ہوگی ۔ذرائع نے بتایا کہ آپریشن کے دوران بلاتفریق جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا جائے گا اور مکمل تفتیش کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے آغاز سے قبل وفاقی اور سندھ حکومت نے تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاقی کابینہ کے 3ستمبر کو ہونے والے خصوصی اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے رابطے کریں گے۔ وفاقی حکومت کے اہم ترین ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں جوائنٹ ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے وفاقی حکومت نے جو خاکہ تیار کیا ہے، اس کے مطابق آپریشن کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی آپریشنل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے سربراہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہوں گے اور اس کمیٹی میں وفاقی حکومت ،وزارت داخلہ ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔ آپریشن میں معاونت کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جائے گی جس کے سربراہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور اس ٹاسک فورس میں وزارت داخلہ ، محکمہ داخلہ سندھ،سندھ پولیس ،رینجرز اور تمام خفیہ اداروں کے افسران شامل کیے جائیں گے۔ ٹاسک فورس وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان آپریشن کے حوالے سے رابطے کا کردار ادا کرے گی۔آپریشنل کمیٹی کی نگرانی میں کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔انتہائی اہم ذرائع کے مطابق ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے کراچی کی سطح پر ایک جوائنٹ آپریشنل ٹیم تشکیل دی جائے گی جبکہ پانچوں اضلاع کی سطح پر ضلعی آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ ہر ضلع میں 10،10کوئیک آپریشنل فورسز کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی ۔
تبصرے بند ہیں.