کراچی: کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیاری سومنات کا مندر نہیں جو فتح نہ ہوسکے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بدامنی کیس کی سماعت کررہا ہے، دوران سماعت بھتہ خوری اور ٹارگٹ پر آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر چیف جسٹس نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ رپورٹ تسلیم کرلیں تو اس کا مطلب کہ آج سے ایک قتل بھی نہیں ہونا چاہیے، عدالتی فیصلے کے بعد 2سال تک شہر میں ناحق خون بہتا رہا، ناحق خون کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر رینجرز اور پولیس نو گوایاز ماننے کو تیار نہیں تھی جبکہ آج کی رپورٹ میں یہ خود مان رہے ہیں کہ نو گوایریاز ہیں، اگر ابتدا میں نو گوایریا ختم کردیے جاتے تو آج صورتحال بہتر ہوتی، چیف جسٹس نے کہا کہ لیاری سومنات کا مندر نہیں جو فتح نہ ہوسکے، جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ کسی کو بھی پکڑیں توشہر جلنے لگتا ہے، ایسے حالات میں کام نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے ملک میں اسمگلنگ، منشیات اور جدید اسلحہ کراچی پورٹ کے ذریعے آتا ہے، اگر ملک میں ایسا کوئی اور پورٹ بھی ہے تو ہمیں بھی اس بارے میں بتایا جائے، چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ آپ نے شہر میں امن وامان سے متعلق وفاق کو ایک خط بھی نہیں لکھا، آپ کو بتانا چاہئے تھا کہ پورٹ سے اسلحہ آرہا ہے روکا جائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیٹو کے 19 ہزار کنٹینرزغائب ہیں جس میں جدید اسلحہ اورفوجی سامان موجود تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیٹو کنٹینرز افغانستان نہیں پہنچتے راستے میں ہی غائب ہوجاتے ہیں، کراچی بلوچستان اور دیگرعلاقوں میں یہی اسلحہ استعمال ہورہا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پکڑے جانے والے اسلحہ کالنک کراچی سے ملا ہے، اسلحہ پورٹ سے کسی کے نام پرنکلتا ہے لیکن راستے میں سیل ٹوٹ جاتی ہے اور اسلحہ غائب ہوجاتا ہے، اس معاملے کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا، اس معاملے پرعدالت نے چیف کلکٹرکسٹم کوفوری پیش ہونے کی ہدایت کردی، کیس کی مزید سماعت جاری ہے۔
تبصرے بند ہیں.