نئی دہلی: وزیراعظم آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کی مشترکہ کال پر (آج) بھارت کا یوم جمہوریہ ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت، بلتستان سمیت پوری دنیا میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ اس موقع پر آزاد کشمیر بھر کے ڈویژنل ،ضلعی، تحصیل ،سٹی مقامات پر جلسے جلوس دھرنے اور احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی، ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف عام ہڑتال ہوگی۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے حوالے سے پی پی میڈیا ایڈوائزر شوکت جاوید نے کہا کہ بھارتی سفارتخانے کے سامنے بھی احتجاجی دھرنے دیے جائینگے۔ وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید اور حریت کانفرنس، سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اسلام آباد میں احتجاجی ریلی اور دھرنے کی قیادت کریں گے۔ شوکت جاوید نے کہا کہ بھارت نے کمپوزٹ ڈائیلاگ اور اقدامات برائے بحالی اعتماد ،دوطرفہ تجارت وفود کے تبادلوں کی آڑ میں سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں بلا اشتعال فائرنگ کر رکھی ہے جو خطرے کا الارم ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑہ میں پرتشدد واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلیے وادی کے مختلف علاقوں میں چھٹے روز بھی کرفیو جاری رہا۔بعض علاقوں میں کرفیوں میں نرمی کے دوران احتجاجی مظاہروں میں گاڑیاں نذرآتش کی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز جموں کے کئی علاقوں میں کرفیو میں نرمی کے دوران ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل ائے اور احتجاج شروع کر دیا پلوامہ میں ہڑتال کے دوران پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں،اس موقع پر پولیس و فورسز نے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلیے لاٹھی چارج کیا جبکہ جھڑپوں میں اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت مقبوضہ کشمیر کو کشتواڑ میں مارے جانے والے افراد کو 5 لاکھ جبکہ پرتشدد واقعات کے تمام زخمیوں کو 2 لاکھ روپے فی کس دینے کی ہدایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پی ساتھا سیوام کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے حکومت کی جانب سے معاوضہ کی ادائیگی کیخلاف دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پرتشدد واقعات میں ہلاک افراد کے ساتھ تمام زخمیوں کو بھی معاوضے کی ضرورت ہے۔
تبصرے بند ہیں.