لاہور: ہاکی چیف کوچ اختر رسول اور شکیل عباسی کے تمام گلے شکوے دور ہو گئے، دونوں نے بغلگیر ہوکر ماضی کی تلخ یادوں کو فراموش کر دیا اور اب نظریں ایشیا کپ کی جانب مرکوز کرلی ہیں۔ تجربہ کار کھلاڑی روزہ رکھ کر کیمپ میں شریک ہوئے، ان کا کہنا ہے کہ اختر رسول میرے بزرگ ہیں،ان کی دل کی گہرائیوں سے عزت کرتا ہوں، میں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی جس پر سزا کا مستحق تھا۔ چیف کوچ کے مطابق شکیل عباسی نے کیمپ میں دوبارہ رپورٹ کے بعد بھر پور ٹریننگ شروع کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق روزہ رکھنے کی پاداش میں کیمپ سے باہر کیے جانے والے تجربہ کار کھلاڑی شکیل عباسی اور ٹیم مینجمنٹ کے درمیان تصفیہ ہو گیا۔ شکیل نے پیر کی شب کیمپ میں رپورٹ کرنے کے بعد گزشتہ روز روزہ رکھ کر صبح اور شام کے سیشنز میں بھر پور ٹریننگ کی۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ اختر رسول کیساتھ میرا کوئی تنازع نہیں تھا، غلط فہمی تھی جو ختم ہو گئی، میں گزشتہ 12 برس سے روزے رکھ رہا ہوں، چیف کوچ کو اس بات کا علم نہیں تھا شاید اس لیے انھوں نے اسے ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے کر کیمپ سے باہر کیا۔شکیل عباسی نے واضح کیا کہ اختر رسول میرے بزرگ ہیں اور میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں،میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ایشیا کپ میں قومی ٹیم کو سرخرو کرے۔انھوں نے کہا کہ پلیئرزکیمپ میں بھر پور تیاری کر رہے ہیں اور ایشیا کپ جیت کر ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے کیلیے پُرعزم ہیں۔ اس موقع پر اختر رسول نے کہا کہ شکیل عباسی نے رپورٹ کے بعد دوبارہ ٹریننگ کا آغاز کر دیا، وہ روزے سے ہے اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، میں نے سب پر واضح کر دیا کہ روزہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے لیکن میں قومی فریضہ سے بھی کسی طور پر غفلت نہیں برتوں گا اور گراؤنڈز کے اندر ان سے بھر پور کام لوں گا۔ انھوں نے کہا کہ کیمپ میں کھلاڑی شدید حبس اور گرمی میں روزانہ 6 گھنٹے سے زائد وقت تک ٹریننگ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے کھیل میں دن بہ دن بہتری آنے لگی، ایشیا کپ میں بھر پور محنت کر کے مثبت نتائج کی کوشش کریں گے
تبصرے بند ہیں.