چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سپریم کورٹ کے وکلا کے ساتھ نشست میں سائلین کی آسانی کے لیے عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا اب فیکسیشن پالیسی کے برعکس کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جلد سماعت کی تمام درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں، تاہم ایسی درخواستوں کے ساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری رجسٹرار دیتا ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ ٹیکس سے متعلق 400 مقدمات کا ایک ماہ میں فیصلہ کیا گیا، جبکہ سال 2024 کے صرف 23 کیسز باقی ہیں۔ سپریم کورٹ میں اب ٹیکس سے متعلق سال 2025 اور 2026 کے مقدمات زیر التوا ہیں۔چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اب فیکسیشن پالیسی کے برعکس کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا۔ کسی بینچ میں مقررہ ترتیب سے ہٹ کر کیس لگنے پر جج رجسٹرار کو طلب کرلیتا ہے۔
تبصرے بند ہیں.