سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 1120 ارب روپے کی ٹیکس چوری کے معاملے پر انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق 27 فیکٹریوں کو بھیجے گئے نوٹسز واپس آگئے، یہ کمپنیاں موجود ہی نہیں، جبکہ 17 کمپنیوں نے ایف آئی اے کے نوٹسز کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے سٹے لے لیا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ فاٹا، پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں ٹیکس کی چوری ہوئی ہے۔ جو شخص چوری کرے گا، ہم اس کی یہاں بات سنیں گے تو یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 223 کنزمپشن سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے، جن میں سے 62 سرٹیفکیٹس 19 کمپنیوں کو جاری ہوئے۔ ایک کمپنی نے 11 ارب روپے کا پے آرڈر لیا ہے جبکہ ایک کنزمپشن سرٹیفکیٹ کو بھی محکمہ ڈیفنڈ نہیں کرسکا۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایس بی اسٹیل مل نے 2.24 ارب روپے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ایف آئی اے افسران کو ستارہ امتیاز دیں جو کام کررہے ہیں۔ فاٹا، پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں فیکٹریوں کا ایف آئی اے خود وزٹ کرے۔ 1120 ارب روپے کی چوری ہے، اس کو رکنا چاہئے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے فاٹا، پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں 1120 ارب روپے کی ٹیکس چوری کے معاملے پر سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کو کم مدت کے پاسپورٹس جاری کئے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر دوستین خان ڈومکی نے کہا کہ اگر میرا سرکاری پاسپورٹ نہیں بنتا تو میں واک آؤٹ کرتا ہوں۔طلال چوہدری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کچھ قوانین گزشتہ کمیٹی میں پاس نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ ایک سینیٹر صاحبہ نے میرے خلاف پروگرام بھی کئے۔ میں تو خوش ہوتا ہوں اگر کوئی میرے خلاف پروگرام کرے، بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔طلال چوہدری نے کہا کہ پاسپورٹ پانچ سال کا ہی بنے گا۔ پاسپورٹ حکام نے بتایا کہ پاسپورٹ رولز یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سے 5 سال تک کا پاسپورٹ بناسکتے ہیں۔
تبصرے بند ہیں.