تہران: ایرانی فورسز نے قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد وسطی اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں سے بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد گاڑیاں تباہ جبکہ 2 افراد ہلاک ہوگئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں واضح کیا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر کا آغاز کر دیا۔بیان کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر 4، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائل داغے اور 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ 200 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے وسطی اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے، ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ایک کلسٹر میزائل فضا میں پھٹا اور اس کے جلتے ہوئے ٹکڑے وسیع علاقے میں پھیل گئے جس کے اثرات تل ابیب کے مختلف علاقوں میں دیکھے گئے۔یروشلم، رامات گن اور بنی براک سمیت مرکزی اسرائیل کے مختلف مقامات پر بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں ایک 70 سالہ مرد اور خاتون ہلاک ہوگئے جو کسی محفوظ پناہ گاہ میں موجود نہیں تھے، شارون کے علاقے میں کم از کم پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں سے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا، ایرانی میزائلوں سے کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تبصرے بند ہیں.