واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی فوج ختم ہوگئی، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے، آگے دیکھتے ہیں ایران سے متعلق کیا ہوتا ہے، معاملات آگے نہ بڑھے تو دوبارہ پراجیکٹ فریڈم کی طرف جاسکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ پراجیکٹ فریڈم پلس ہوگا، ساتھ کچھ دوسری چیزیں بھی شامل ہوں گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر کا اس سے پہلے کہنا تھا کہ روس اور یوکرین میں جنگ بندی 3 دن سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے، روس یوکرین جنگ میں ہر ماہ ہزاروں فوجی لقمہ اجل بن رہے ہیں، میں اس قتل و غارت کو ہر صورت روکنا چاہتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ روس یوکرین جنگ بندی میں بڑی توسیع دیکھنا چاہتا ہوں، تین روزہ جنگ بندی شروعات ہے، اس جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہوں۔دوسری طرف ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن کی جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، ایرانی افواج اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پرتیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے، ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔علاوہ ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے، اس عمل کا مقصد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
تبصرے بند ہیں.