پشاور:پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی کیا اور فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سڑکیں فی الفور کھول کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید نے سماعت کی، چیف سیکرٹری کے پی اور آئی جی کے پی پیش ہوئے۔دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پارلیمنٹرین اسلام آباد سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرانے کے لیے گئے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہماری ڈومین نہیں، احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت سے استدعا کی کہ دو دن دیئے جائیں، عدالت نے حکم دیا کہ دو دن نہیں، آج سے کارروائی شروع کریں، بدقسمتی ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے 2 افراد راستے میں جاں بحق ہوئے ہیں، عدالت نے کہا کہ یہ جاں بحق افراد ان کے لیے شاید اہم نہیں ہوں گے، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونی چاہئے، پشاور میں بھی کسی جگہ پر احتجاج نہ کرنے دیا جائے، سٹرکوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے بچے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کتنے دن ہو گئے جب سے یہ سٹرکیں بند ہیں، آئی جی نے بتایا کہ پہلے 16 پوائنٹس پر احتجاج تھا جس کو کم کر 10 پوائنٹس تک محدود کیا گیا، عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کہ سٹرکیں بند ہیں۔آئی جی نے کہا کہ یہ موٹر وے پولیس کی حدود میں آتا ہے جب وہ مراسلہ بھیجتے ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں، عدالت نے کہا کہ کوئی پشاور سے باہر نہیں جاسکتا، آج کا اخبار دیکھ لیں، صوبے میں بدامنی کے واقعات آپ کے سامنے ہیں، کتنے لوگوں کے خلاف آپ نے اب تک کارروائی کی ہے؟آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے بتایا کہ موٹر وے پولیس جب تک ریفرنس نہ بھیجے ہم کارروائی نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک سٹرک بند ہوتی ہے تو پورا پشاور جام ہوتا ہے، اکثر مقامات پر ٹریفک اہلکار ہوتے ہی نہیں، آئی جی نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ آخری مراحل میں ہے، عدالت نے کہا کہ پورے صوبے میں ٹریفک کا کوئی نظام نہیں ہے۔عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آپ نے کیا کارروائی کی ہے اب تک؟ جہاں ایکشن لینا ہوں تو ان کو 3 ایم پی او کے تحت جیل بھیج دیتے ہیں، خیبرپختونخوا کے لوگوں کو تکلیف دی جارہی ہے، خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں بدامنی کے واقعات رونما ہورہے ہے، بدقسمتی کی بات ہے کہ رولنگ پارٹی اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ تمام سڑکیں فوری کھول دی جائیں اور کل رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔بعدازاں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس نے کہا کہ عدالت نے سٹرکیں کھولنے کا حکم دیا ہے ، اب سٹرکیں کھول دیں گے، سٹرکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ سٹرکیں تو پی ٹی آئی کے ورکرز نے بند کی ہیں، اس پر آئی جی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جس نے بھی سٹرکیں بند کی ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوگی، بدامنی ایک چیلنج ہے، پولیس اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تبصرے بند ہیں.