Latest National, International, Sports & Business News

سندھ طاس معاہدے کے تحت جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے: پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔مدراس میں ایک تقریب سے خطاب میں انڈین وزیر خارجہ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بلا ندامت دہشت گردی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور ایک ایسی ریاست کے طور پر اس کی ساکھ پر سوال اٹھے گا جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی پر متعدد بار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی اور ملک کے لیے سرخ لکیر قرار دیا ہے۔دفتر خارجہ نے بھارت پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ میں انڈیا کے کردار سے سب بخوبی آگاہ ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیے گئے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا گیا کہ اسی طرح ماورائے سرحد قتل، پراکسیز کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات بھی نہایت تشویش ناک ہیں، یہ طرزِ عمل ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.