کراچی: شہر اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے جاری مون سون کی پہلی بارش نے جہاں گرمی کازور توڑ دیا ہے وہیں بلدیاتی اداروں کے غیر فعالیت اور حکومتی غفلت نے شہر قائد میں برسنے والی اس رحمت کو زحمت میں تبدیل کردیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات و واقعات کے نتیجے میں اب تک 11 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ شہر کا 80 فیصد سے زائد حصہ بجلی سے بھی محروم ہے۔ کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں آج صبح سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیاہ بارش ناظم آباد میں 126 ملی میٹر، لانڈھی 57 اور گلستان جوہر55، گلشن حدید میں 47، مسرور بیس 36، فیصل بیس 35، نارتھ کراچی میں 31 اور ایئرپورٹ 30 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارش نے جہاں موسم خوشگوار کردیا ہے وہیں بلدیاتی اداروں کی غیر فعالیت اور صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث شہر کے بڑے حصے میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے، بلدیاتی اداروں کی جاب سے بارش کے لئے پیشگی انتظامات نہ ہونے کے باعث کئی برساتی نالوں کی بروقت صفائی ممکن نہیں ہوسکی جس کیی وجہ سے ان نالوں کا گندا پانی گھروں اور کاروباری مراکز میں داخل ہوگیا ہے۔ بارش کا پانی سول اور جناح اسپتال کے علاوہ گورنر ہاؤس وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سمیت کئی اہم سرکاری عمارتوں میں بارش کا پانی جمع ہے، اس کے علاوہ ایم اے جناح روڈ، نشتر روڈ، شاہراہ پاکستان، سر آغا خان روڈ اور کورنگی روڈ پر کئی کئی فٹ کھڑے پانی نے آمدورفت کو بری طرح متاثر کیا ہے اس کے علاوہ کلفٹن کے انڈر پاس میں بھی پانی بھر جانے سے گھروں کو جانے والے افراد کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ لیاری نڈی میں طغیانی سے 50 کے قریب جوھنپڑیاں اور سیکروں مویشی بھی بہہ گئے ہیں، بارش کے باعث شہر بھر کے 300 سے زائد فیڈر ٹرپ کرجانے سے شہر کا 80 فیصد سے زائد حصہ بجلی سے محروم ہے تاہم کے ای ایس سی کے ترجمان نے 103 فیڈر بند ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں کئی گرڈ پر اب تک بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ چیف میٹرولوجسٹ توصیف عالم نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی مشرقی سندھ میں ہونے والی بارشیں بھارت کی جانب سے داخل ہونے والی ہواؤں کا نتیجہ ہے جو 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بارش کا ایک سلسلہ ختم ہوگیا ہے جبکہ دوسرا سلسلہ آج شام سے شروع ہوگا جو کراچی حیدرآباد اور میر پور خاص ڈویژن میں بارش کا سبب بنے گا۔ ایڈمنسٹریٹر نے کراچی نے ممکنہ بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے تاہم شہر کی اہم سڑکوں پر اب تک کے ایم سی کا عملہ نظر نہیں آرہا اور کئی علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے میں مصروف ہیں جبکہ ناتھا خان،ائرپورٹ، ماڈل کالونی اور ملیر چھاونی کے اطراف میں پانی کی نکاسی کے لئے پاک فوج کی خصوصی ٹیمیں ہیوی پمپنگ سسٹم اور جدید آلات کے ہمراہ پہنچ گئی ہیں۔ دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات و واقعات میں اب تک 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، نیپا چورنگی پر واقع سی این جی اسٹیشن کی چھت گرنے سے 10 افراد زخمی ہوگئے،ڈیفنس میں کے ای ایس سی آفس کے قریب کرنٹ لگنےسےراہ گیر جاں بحق ہوگیا۔ پیر آباد میں بھی کرنٹ لگنے سے ایک بچہ زندگی کی بازی ہار گیا، گلزار ہجری میں پیش آیا جہاں اپارٹمنٹ کی چھت گرنے سے تین سالہ بچہ دم توڑ گیا، سخی حسن میں ایک بچہ نالے میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، اس کے علاوہ ملیر، پاپوش نگر اور کورنگی میں بھی 3 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔کے ای ایس سی حکام نے اپیل کی ہے کہ عوام بارش کے دوران ٹوٹے ہوئے تار کے قریب جانے سے گریز کریں۔
تبصرے بند ہیں.