کراچی: شہر میں گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث ملیر اور لیاری ندی کے پانی سے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کراچی میں طوفانی بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بلدیاتی اور صوبائی انتطامیہ اب تک مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ سعدی ٹاؤن، امروہہ سوسائٹی، صفورہ گوٹھ ، گلشن معمار ، بھٹائی آباد، گلستان جوہر،ملیر اور لیاری ندی سے ملحقہ علاقے پانی میں ڈوب گئے اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لسبیلہ، پرانا گولیمار اور گجرنالے کے مکیوں نے تین ہٹی پل پرعارضی رہائش اختیارکرلی ہے۔ بارش کے باعث برساتی ریلے نے ملیر ندی میں بھی طغیانی پیدا کردی ہے جس کے باعث کورنگی کاز وے مکمل طور پر ڈوب گیا ہے اور یہاں سے ہر قسم کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے علاوہ لنڈی کوتل چورنگی سےواٹر پمپ چورنگی تک سڑک اور فٹ پاتھ دونوں ہی بارش کے پانی میں غائب ہوگئے ہیں ۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں نارتھ ناظم آباد،جوہر چورنگی، اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، کورنگی ، نارتھ کراچی اور دیگر علاقوں میں پانی اب بھی کھڑا ہے جبکہ گندگی اور غلاظت جگہ جگہ نظر آرہی ہے، پاک فوج اور نیوی کی امدادی ٹیمیں لوگوں کو علاقے سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں تاہم حکومت کی جانب سے رین ایمرجنسی نافذ کئے جانے کے باوجود بلدیاتی اور صوبائی انتظامیہ نام کی چیز کہیں نظر نہیں آرہی۔ دوسری جانب گزشتہ روز بجلی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کو بھی اب تک دور نہیں کیا جاسکا کئی علاقے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی بجلی سے محروم ہیں جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔
تبصرے بند ہیں.