چھوٹے تاجروں نے نیپرا سے کے ای ایس سی کے آڈٹ کا مطالبہ کردیا

کراچی: چھوٹے تاجروں نے نیپرا سے کے ای ایس سی کے حسابات کا مستند اور قابل اعتماد آڈٹ کرانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدرمحمود حامد نے نیپرا سے کہا ہے کہ وہ اعداد و شمارکے گورگھ دھندوںکے ذریعے کے ای ایس سی کو بلوں میں اضافے کی قطعی اجازت نہ دے، کراچی میں نیپراکے مستقل دفترکا قیام خوش آئند اقدام ہے کیونکہ اس فیصلے کو تاجرو صنعتکاراور عوام نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔ یہ موقف انہوں نے نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ کی سماعت کے موقع پر کراچی کے تاجروں کی جانب سے بورڈ کے چیئرمین کے سامنے پیش کیا۔محمود حامد نے کہا کہ کراچی 2 کروڑ سے زائد آبادی کا حامل شہر ہے جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے، مرکزی حکومت کراچی سے 67 فیصد ٹیکس حاصل کرتی ہے مگر کے ای ایس سی کا رویہ یہاں کے تاجروں اور عوام کے ساتھ انتہائی شرمناک ہے۔ کے ای ایس سی کے راشی افسران میٹر ٹیمپیرنگ اور ایکسٹرا بلنگ کے نام پر لاکھوں روپے کے اضافی بل صارفین کو بھیجتے ہیں اور اس کے ذریعے خون نچوڑا جا رہا ہے،کے ای ایس سی خود ہی مدعی اور خود ہی منصف بن کر آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے، میٹر ٹیمپیرنگ کے ہر کیس میںصارف کو مجرم بنا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ اسمال ٹریڈر کے صدر نے کہا کہ کے ای ایس سی کی موجودہ انتظامیہ ادارے کا قیمتی کاپر وائر بیچ کر سلور کا ناقص وائر لگا رہی ہے، ناقص سلور وائر کے باعث بجلی کے تسلسل میں نہ صرف فرق پڑتا ہے بلکہ اس کے باعث وولٹیج زیادہ ہونے کے باعث بجلی کے آلات جلنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، کے ای ایس سی کے اثاثے شہر کے عوام کا اثاثہ ہے، اسے لٹنے سے بچایا جائے۔ چیئرمین بورڈ نے اعلان کیا کہ شکایات کے ازالے کے لیے نیپرا افسران دو روز کراچی میں قیام کریں گے لہٰذا تاجر نمائندے ان افسران سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ میں نیپرا کا مستقل دفتر کراچی میں قائم کر دیا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.