وزیر پٹرولیم و قدرتی پیداوار شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بین الاقوامی دباؤ کے باعث تاخیر کا شکار ہے تاہم امید ہے کہ منصوبے کی تکمیل جلد ممکن ہوسکے گی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کو دیئے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اگر ایک جانب ملک میں موجود توانائی کے بحران کو پورا کرنے کے لئے ایران کے ساتھ منصوبے پر عملدرآمد کرتا ہے تو دوسری جانب اسے ممکنہ طور پر امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ امریکا کے خیال میں اس منصوبے سے پاکستان ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا لیکن امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتکاری کے آغاز سے امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن معاہدے کی رو سے یہ منصوبہ پاکستان، بھارت اور ایران کے درمیان شروع ہونا تھا مگر بھارت نے امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد اس معاہدے سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع ہونے کی صورت میں پاکستان 21 عشاریہ 5 ملین کیوبک میٹر گیس یومیہ ایران سے حاصل کرسکے گا اور اس پر 2 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔
تبصرے بند ہیں.