Latest National, International, Sports & Business News

ٹیکس دفاتر، اے جی پی آر اور ایس بی پی کے ڈیٹا میں تضاد

ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس آفسز اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس کی طرف سے کو بھجوائے جانیوالے پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولیوں کے اعداد و شمار اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو و اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں بڑے پیمانے پر تضادات کا انکشاف ہوا ہے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر کے تمام ریجنل ٹیکس آفسز اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس کے چیف کمشنرز کے ساتھ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار کو اے جی پی آر اور اسٹیٹ بینک کے پاس موجود اعدادوشمار کے ساتھ ری کنسائل کر کے حتمی اعدادوشمار ایف بی آر کو بھجوائے جائیں اور اعداد و شمار میں فرق کو دور کیا جائے۔ ایف بی آر حکام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فیلڈ آفسز خام اعدادوشمار بھجوا دیتے ہیں، بعض اوقات ریفنڈ زایڈجسٹمنٹ بھی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے تضاد نظر آتا ہے لیکن اس کو دور کردیا جاتا ہے تاہم اب فیلڈ آفسزسے متعلقہ اداروں کے ساتھ ری کنسیلیشن کے بعد ماہانہ ڈیٹا بھیجنے کا کہا جارہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.