بلوچستان کے علاقے مچھ میں مسافر بسوں میں سے اغواء کئے گئے 23 میں سے 13 مسافروں کو قتل کر دیا گیا۔ 10 مسافروں کو شناختی کارڈز چیک کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا. کوئٹہ, مچھ:مسافر بسیں کوئٹہ سے راجن پور اور صادق آباد جا رہی تھیں۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغانستان جانیوالے آئل ٹینکر پر ٹھاکر ہوٹل قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ اس دوران پولیس اور ملزموں کے درمیاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک ایف سی اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ فائرنگ کے باعث ٹریفک جام ہونے کے بعد مسافر بسوں سے 23 مسافروں کو اتار کر اغواء کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے 13 مسافروں کو قتل کر دیا گیا جن کی لاشیں قریبی پہاڑوں سے ملی ہیں۔ کوئٹہ سے پنجاب جانے والی بسوں کے مسافروں کو چند گھنٹے پہلے اغوا کیا گیا تھا۔ پولیس، لیویز اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مسافروں کو دو مختلف بسوں سے اغوا کیا گیا جو کوئٹہ سے پنجاب جا رہی تھیں۔ مسلح افراد نے ان بسوں کو بولان کے قریب روک کر ان سے 13 افراد کو اتارا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد بسوں میں سوار باقی مسافروں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس سے قبل اسی علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے کراچی سے کوئٹہ جانے والے چار آئل ٹینکروں پر بھی حملہ کیا گیا جو کہ کراچی سے پاکستانی فضائیہ کے لیے ایندھن لے جا رہے تھے۔ اس حملے کے بعد جب سیکورٹی فورسز کے اہلکار اس علاقے میں پہنچے تو ان کے اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
تبصرے بند ہیں.