ماربل سیکٹر کے لیے بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کے لیے متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران سے کئی بار ملاقاتیں کی گئیں لیکن کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے ماربل سیکٹر کی برآمدات میں نمو کا تسلسل رک گیا ہے۔ کراچی میں ماربل انڈسٹریل زون یومیہ 6سے 10گھنٹے بجلی سے محروم ہیں جس سے پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ پیداوار میں کمی کے اثرات ماربل کی برآمدات پر بھی مرتب ہورہے ہیں رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران ماربل کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ملک سے ایک کروڑ 80لاکھ 24ہزار ڈالر کا ماربل ایکسپورٹ کیا گیا تاہم اس سال برآمدات کی مالیت ایک کروڑ 74لاکھ 49ہزار ڈالر رہی ہے۔ آل پاکستان ماربل مائننگ پراسیسنگ انڈسٹری اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثنا اﷲخان کے مطابق ماربل کی صنعت کے لیے بجلی کا بحران اور امن و امان کے مسائل پیداوار اور ایکسپورٹ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔کراچی میں رینجرز آپریشن کے نتیجے میں کسی حد تک صورتحال بہتر ہوئی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے تک آپریشن جاری رہنے سے صنعت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے تاہم بجلی کی غیراعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ ماربل سیکٹر ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے یہ واحد شعبہ ہے جو حکومت کی اعانت یا سبسڈی، بینک قرضہ جات کے بغیر چل رہا ہے، دنیا بھر میں پاکستانی ماربل کی بڑی مانگ ہے لیکن مربوط پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے 90فیصد ماربل بلاک کی شکل میں (خام) ہی ایکسپورٹ کیا جارہا ہے۔ ماربل سیکٹر کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی مسلسل نظر انداز کیا اہم تجارتی نمائشوں میں ماربل سیکٹر کو نمائندگی نہیں دی جاتی ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے انتہائی اہم تجارتی نمائشوں میں شرکت کو بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ماربل سیکٹر کے لیے سال میں صرف دو بین الاقوامی نمائشوں میں معاونت کرتی ہے جبکہ دنیا بھر میں تعمیراتی صنعت سے متعلق نمائشیں پورا سال جاری رہتی ہیں جن میں اٹلی میں ہونے والی Marmomac، دوحا قطر میں ہونے والی پراجیکٹ قطر، ریاض میں ہونے والی سعودی بلڈ اسٹور ٹیک نمائش اور ماسکو میں ہونے والی ایکسپو اسٹون نمائش شامل ہیں ۔ماربل سیکٹر نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارتی کا صدر دفتر اسلام آباد منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ماربل سیکٹر کی ترقی کے لیے منفی فیصلہ قرار دیا ہے۔ آل پاکستان ماربل مائننگ پراسیسنگ انڈسٹری اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثنا اﷲخان کے مطابق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ماربل سیکٹر کو ہمیشہ نظر انداز کیا اور اب اتھارٹی کا دفتر اسلام آباد منتقل ہونے کی صورت میں ماربل سیکٹر کے مسائل میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔
تبصرے بند ہیں.