اسلام آباد: مردان میں ہونے والی دہشت گردی کیخلاف سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور،فرحت اللہ بابرکہتے ہیں ڈی جی ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ میں ایک حاضرسروس فوجی کو لگایا جا رہا ہے،جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین نیئرحسین بخاری کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مردان میں ہونے والے خود کش دھماکے کیخلاف متفقہ طورپر قرار داد منظور کی گئی،قرار داد میں قانون نافذ کرنے والیا داروں سے امن وامان کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا،سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرحت اللہ بابرکا کہنا تھا کہ ڈی جی ملٹری لینڈ اورکنٹونمنٹ میں ایک حاضرسروس فوجی کو لگایا جا رہا ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے،ق لیگ کے مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ کیا دوحہ میں طالبان نے پاکستانی حکومت کواطلاع دے کردفتر بنایا ہے،جے یو آئی کے غفور حیدری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم دہشت گردی کیخلاف جنگ کا حصہ بنے،اس لئے ہم اس معاملے میں سٹیک ہولڈر ہیں،جنگ پراب تک کوئی واضح موٴقف نہیں اپنایا،پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا،اے این پی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ سرکاری ملازمین اورسمندرپارپاکستانیوں کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں،حکمران ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں،اس لئے بجٹ ایلیٹ کلاس کیلئے بنایا گیا،ایف بی آر کو بنکوں تک رسائی نہ دی جائے،پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی اورق لیگ کے کامل علی ایغاز نے کہا کہ جی ایس ٹی کا نفاذ آئین کے آرٹیکل ستترکی خلاف ورزی ہے،ایم کیو ایم کے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کی رقم پارلیمنٹیرین کے ذریعے عوام پر خرچ ہونی چاہئے، صحت ، تعلیم اور بنیادی سہولیات کیلئے بجٹ میں فنڈز نہیں رکھے گئے،جوعوام سے زیادتی ہے،چھاؤنیاں بنانا مسائل کا حل نہیں۔ن لیگ کی سینیٹر نجمہ حمید نے کہا کہ حکومت نے موجودہ حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا،سیکرٹ فنڈز ختم کرنا حکومت کا بہترین اقدام ہے،بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
تبصرے بند ہیں.