Latest National, International, Sports & Business News

سپریم کورٹ، تھری جی لائسنس کی نیلامی کیلیے پی ٹی اے کو 2 ہفتوں کی مہلت

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ارکان کی تقرری پردرخواست گزارکے اعتراضات مستردکردیے ہیں اور آبزرویشن دی ہے کہ تقرری حکومت کا انتظامی اختیارہے، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ عدالت نے تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کے لیے پی ٹی اے کو2ہفتے کی مہلت دی ہے اورنیلامی کے لیے اب تک کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے،چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، ڈپٹی اٹارنی جنرل عمران الحق اوردرخواست گزارکی جانب سے علی رضاپیش ہوئے اوربتایاکہ2ارکان کاتقررکردیا گیا ہے، ان میںسے ایک کوقائم مقام چیئرمین کی ذمے داری دی گئی ہے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے تقرریوںکا نوٹیفکیشن پیش کرتے ہوئے عدالت کوبتایاکہ سیداسماعیل شاہ کوممبر ٹیکنیکل اور طارق سلطان کوممبر فنانس تعینات کیاگیاہے جبکہ جسٹس(ر) محمدرضاخان کا بھی بطور ممبر لیگل تقررعمل میں آیا ہے۔انھوں نے بتایاکہ اسماعیل شاہ کوقائم مقام چیئرمین کاچارج دیاگیاہے، اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اب بھی قائم مقام تقرر کیاگیاہے، آخرعارضی انتظام کاسلسلہ کب تک چلے گا۔ حکومت مستقل تقرری کیوںنہیں کرتی۔ عارضی ملازمین توکام نہیںکرتے، علی رضانے اعتراض اٹھایاکہ قائم مقام چیئرمین جب وزارت آئی ٹی میںتھے تو ان کے خلاف انکوائری ہوئی تھی اورانھوںنے یہ کہہ کرعہدے سے استعفیٰ دے دیاتھاکہ وہ سرکاری ملازمت کیلیے فٹ نہیں ہیں جبکہ دوسرے ممبر طارق سلطان کے پاس دہری شہریت ہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ عدالت کا اعتراض عدم تقرری پرتھا، تقرری کس کی کرنی ہے یہ کام حکومت کاہے وہی کریگی، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دہری شہریت کی پابندی وزیروںاور مشیروںکیلیے ہے، سرکاری ملازمین کیلیے نہیں، بلاوجہ کے اعتراضات نہ اٹھائیں اور اداروں کو کام کرنے دیں، چیف جسٹس نے کہاکہ3Gلائسنس کی نیلامی میں شفافیت کومدنظررکھاجائے کیونکہ اس کے ذریعے قوم کواربوں روپے کافائدہ ہوناہے، چیف جسٹس نے کہاکہ سمجھ نہیںآتی کہ سیدھاکام کیوں نہیں کیاجاتا، ہمیںتقرریوں میںکوئی دلچسپی نہیںلیکن چاہتے ہیںکہ لائسنس کی نیلامی کامسئلہ حل ہوجائے، عدالت نے سماعت 14اکتوبرتک ملتوی کردی۔

تبصرے بند ہیں.