ریاض: سعودی علما کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں رمضان المبارک کی غلط شروعات کی گئی تھی اور چاند دیکھنے میں غلطی کی وجہ سے ایک روضہ چھوٹ گیا ہے۔ علما نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے میں علما کی جانب سے غلطی ہو گئی اور چاند دیکھنے میں غلطی کی وجہ سے عوام کا ایک روضہ چھوٹ گیا ہے، علما نے کہا کہ اگر آج شوال کا چاند نظر آ جاتا ہے تو رمضان المبارک 28 روضوں پر مشتمل ہو گا اور عوام کو عید کے بعد ایک روضہ رکھ کر اپنے روضوں کی شرعی تعداد کو پورا کرنا ہو گا۔ دوسری جانب جامعة الازہر کے علما نے سعودی علما کونسل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مصر میں 29 روزے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں پہلا روزہ 10 جولائی بروز بدھ کو ہوا تھا۔
تبصرے بند ہیں.