سری لنکا نے شکست کا حساب صرف تین روز میں ہی چکا دیا ، ایسی امید نہ تھی۔ دونوں کپتانوں میں لنکن کپتان کی کارکردگی بہتر ، اور دونوں ٹیموں میں سری لنکا کے پاس آل راونڈرز کی تعداد زیادہ جب کہ پاکستانی بلے باز حسب معمول رنز کا بوجھ برداشت نہ کر سکے۔
ہمبنٹوٹا (ویب ڈیسک) سری لنکا کی 77 رنز کی جیت کے ساتھ ہی تین میچوں کی سیریز بھی برابر ہوگئی ہے اور اب سیریز کا فیصلہ ہفتے کو دمبولا میں ہونے والے آخری ون ڈے میں ہوگا۔ پہلے ایک روزہ میں پاکستان نے 275 کا ہدف 45 اوورز میں عبور کر کے جیتا تھا لیکن اسی میدان میں اس سے 50 اوورز میں311 رنز نہ بن سکے۔ اب اس کے اسباب کیا ہوسکتے ہیں؟مبصرین نے اس حوالے سے بہت سی باتیں کی ہیں جن میں سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سری لنکا میں آج تک کوئی بھی ٹیم 300 یا زائد رنز کا ہدف عبور کرکے ون ڈے جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ دیگراسباب میں پاکستانی ٹیم کی غیرمعیاری بولنگ اور وکٹ کیپنگ کے ذریعے سری لنکا کو اس کی توقع سے زیادہ رنز بنوانا اور بیٹسمینوں کی جوش و خروش سے عاری بے دلی سے بیٹنگ شامل ہیں۔ شرجیل خان نے اپنے نام کی لاج نہ رکھی تو محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی 96 رنز کی شراکت نے پاکستانی ٹیم کو میچ میں موجود رکھا۔ لیکن 33 رنز پر تین وکٹیں گر جانے کے نتیجے میں توازن میزبان ٹیم کے حق میں ہوگیا اور اس کے بعد پاکستانی ٹیم کسی بھی موقع پر نہ سنبھل سکی۔ اس طرح وہی 96 رنز کی پارٹنر شپ ہی سب سے بہتر رہی۔ اس طرح کے سکور کا ہدف حاصل کرنے کے لئے ایسی کم از کم دو شراکتیں درکار ہوتی ہیں۔ پھرعمر اکمل نے انتہائی مایوس کیا۔ ہیراتھ نے ٹیسٹ میچوں میں تو جو کیا سو کیا وہ ون ڈے میچز میں بھی ہمارے بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار ہیں۔ اس نے مصباح الحق اور صہیب مقصود کی قیمتی وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی اننگز کو اس کے منطقی انجام پر پہنچا دیا۔ پھر اگر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کا موازنہ کیا جائے تو مصباح سری لنکن قائد میتھیوز کے قریب بھی نظرنہیں آتے۔ ہر چند کہ میتھیوز بھی مصباح الحق کی طرح ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری کے شدت سے منتظر ہیں تا ہم وہ ہر میچ میں مصباح کے برعکس ایک میچ وننگ اور میچ سیونگ اننگز کھیلتے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ جنید خان پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی بیٹسمینوں کے لیے ترنوالہ ثابت ہوئے۔ محمد عرفان کا رعب دبدبہ بھی نہ تھا۔ وہاب ریاض نے چار وکٹیں تو حاصل کیں لیکن آخری اوورز میں وہ بھی رنز کے سیلاب میں بہہ گئے۔ شاہد آفریدی کے لیے یہ میچ بھی وکٹ سے خالی گیا۔ وہ آخری پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اور ان کی یہ کارکردگی ان کے اور ان کے ان مداحوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو کہتے ہیں کہ شاہد آفریدی باولر ہے اور اگر وہ میچ میں دو تین وکٹ لے لیتا ہے تو کافی ہے ، حالانکہ اس حقیقت سے خود آفریدی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اگر وہ تھوڑا سا بلا کنٹرول میں رکھے تو کچھ نہ کچھ سکور کر سکتا ہے۔ آج کا ہی نہیں بلکہ پچھلے تین عشروں سے کرکٹ آل راونڈرز کا کھیل بن چکی ہے اور اگر آفریدی نے اس طرف توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا تو یہ جان لینا چاہئے کہ اس نے اپنی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کے ذریعے پاکستان کو کافی میچوں میں فتح سے دور کیا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم میں کتنے آل راونڈرز ہیں اور ہماری ٹیم میں کتنے ہیں ، یہ اندازہ شائقین کرکٹ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ آل راونڈرز میں سے اگر ایک یا دو بھی اچھی پرفارمنس دے جائیں تو میچ جتوا دیتے ہیں۔ جیسا کہ اس میچ میں پریرا نے دکھائی ہے۔ آفریدی ایک سینئر کھلاڑی ہیں مگر ان کی کارکردگی سے لگتا ہے کہ وہ کہیں عالمی کپ سے پہلے ہی کرکٹ چھوڑنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ –
تبصرے بند ہیں.