خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں قبائلی مشیران نے مبینہ طور پر سیاسی جماعتوں کی حمایت سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو خواتین کے ووٹروں کا الگ ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ لکی مروت، پشاور کے علاقے مضافاتی علاقے تارو جبو جبکہ نوشہرہ میں پبی کے علاقہ ڈاگ بیسود، جباتر اور وزیر گڑھی میں مقامی قبائلی مشیران اور سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کے درمیان معاہدے کے تحت خواتین کو حق رائے دہی سے روک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو خواتین کے ووٹروں کا الگ ریکارڈ رکھنے کی ہدایت کردی ہے تاکہ خواتین کے ووٹوں کی شرح کا تعین کیا جاسکے، ترجمان الیکشن کا کہنا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنا قانونی طور پر جرم ہے اگر کہیں بھی خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے تو اس پر کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے مبینہ طور پر مشترکہ طور پر خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کردیا تھا۔
تبصرے بند ہیں.