کراچی: وزارت خزانہ نے تجارتی بینکوں کو امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے، احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے بنکوں کیلئے تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر رانا اسد امین نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بہرصورت کم کرنے کی حکمت عملی وضح کر لی ہے تاکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کو مختصر مدت میں کم کیا جاسکے۔ وزیر خزانہ کے مشیر اور گورنر اسٹیٹ بینک مشترکہ طور پر 3 روز کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی ٹریڈنگ کی سخت مانیٹرنگ کریں گے اور ڈالر کی قدر میں کمی کے سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیرخزانہ کے مشیر نے ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کو بتایا کہ وفاقی وزارت خزانہ نے وزارت تجارت کے تعاون سے درآمدی پرتعیش اشیا کی فہرست مرتب کی ہے جن کی درآمدات کو 100 فیصد ایل سی مارجن سے مشروط کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹربینک کی سطح پر ڈالر کی قدر میں کمی نہ ہونے کی صورت میں وزارت خزانہ بینکوں کے خلاف اپنے مانیٹری ٹولز کو استعمال میں لانے سے دریغ نہیں کرے گی کیونکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی سنگین صورتحال میں حکومت کسی بھی طور پر ڈالر کے کاروبار میں بینکوں کی کارٹلائزیشن کو قبول نہیں کرے گی، ان مانیٹری ٹولز میں بینکوں کے ناسٹر اکائونٹ کی حد میں کمی کے علاوہ دیگر سخت اقدامات بھی شامل ہیں۔ ملک بوستان نے بتایا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے ڈنڈے کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اگر انٹربینک کی سطح پر ڈالر کی قدر میں بتدریج کمی ہو تو چند روز میں اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قدر107 روپے سے نیچے آ سکتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزارت خزانہ کے ممکنہ سخت اقدامات کے خوف کے باعث منگل کوانٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر مزید 30 پیسے کی کمی سے107.90 روپے پر آگئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر10 پیسے کی کمی سے 107.80 روپے ہوگئی۔
– See more at: http://www.urdutimes.com/content/55042#sthash.bBf1P5vV.dpuf
تبصرے بند ہیں.