پشاورمیں چرچ پر حملے کے خلاف ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ شہر شہر ريلياں نکالی گئيں اور متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر بعض مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی بھی کی۔ پشاور خود کش حملے کی خبر جنگ کی آگ کی طرح پھیلی اور شہر شہر صدائے احتجاج بلند ہونے لگا۔ کراچی کے مختلف علاقوں ميں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ کورنگی میں ہنگامہ آرائی کے دوران ٹائر جلائے گئے اور گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔ عیسیٰ نگری میں بھی احتجاج کیا گیا جہاں پولیس اورمظاہرین میں جھڑپوں کے بعد بیس افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس موقع پر شہر کی اہم شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ لاہور کے فیروز پور روڈ پر مظاہرے ميں سيکڑوں افراد شريک تھے جس کے باعث ميٹرو بس سميت ديگر ٹريفک معطل ہوکر رہ گئی۔ ملتان میں بھی مسیحی برادری نے ریلیاں نکالیں۔ مشتعل افراد نے ڈنڈے اٹھائے اور کئی علاقوں میں سڑکیں بلاک کیں۔ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ پر گاڑیاں روک دیں اور ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ فیصل آباد میں ضلع کونسل چوک تک ریلی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈیرہ غازی خان میں مظاہرین نے چیف جسٹس سے واقعہ کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ سیالکوٹ کے کرسچن تھنکر فورم نے سینٹ جوزف چرچ سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔ شیخوپورہ اور وہاڑی میں بھی مظاہرہ کیا گیا اور مسیحی برادری نے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تبصرے بند ہیں.