میلبورن: ورلڈ کپ 2015 کو کرپشن سے بچانے کیلیے آئی سی سی پولیس کی خدمات حاصل کرے گی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون حاصل کیا جارہا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ اب صرف مشکوک لوگوں پر نظر رکھنے سے کام نہیں چلے گا ہمیں مزید سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے، فکسنگ جیسے معاملات کے خلاف قانون سازی بہت ضروری ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے ورلڈ کپ کو کرپشن سے محفوظ بنانے کیلیے میزبان ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے پولیس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں بات چیت کا عمل بھی شروع کردیا گیا۔ اس وقت کرکٹ پھر کرپشن الزامات کی زد میں ہے، آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن جنوبی افریقہ کے سابق وکٹ کیپر اور خود ہنسی کرونیے کی قیادت میں کھیل چکے جنھوں نے 2000 فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، بعد میں وہ جہاز حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے، حال ہی میں دہلی پولیس نے چارج شیٹ میں بھی انھیں شامل کیا ہے۔رچرڈسن کا کہنا ہے کہ پہلے ہمارے ایونٹ میں اینٹی کرپشن یونٹ کے لوگ میچز کی نگرانی کرتے اور کھلاڑیوں کو اس کے مضمرات کے بارے میں تعلیم دی جاتی تھی مگر اس بار ورلڈ کپ میں ہم نے مزید سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں ہم مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچنے والے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی بھی غلط شخص کھلاڑیوں تک رسائی حاصل نہ کرپائے، سٹہ بازی میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ہر میچ فکس نہیں کرتے بلکہ سٹہ کھیلتے ہیں، پھر ایسی کوششیں کرتے ہیں کہ پلیئرز وہ کام کریں جو انھیں نہیں کرنا چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں اور ان کو پلیئرز سے دور رکھنا ہی ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، ہم اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جیسے ہی اس قسم کے لوگ پلیئرز سے ملیں وہ فوری طور پر ہمیں رپورٹ کریں۔ رچرڈ سن نے مزید کہا کہ ہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پرکھیلوں میں فکسنگ کیخلاف باقاعدہ قانون سازی پر بھی زور دے رہے ہیں۔
تبصرے بند ہیں.