Latest National, International, Sports & Business News

مصری فوج اورعبوری حکومت بحران پر قابو پانے کیلیے اخوان المسلمون کو کابینہ میں شامل کرنے پر تیار

مصری حکام اخوان المسلمون کے نمائندوں کو کابینہ میں شامل کرنے کیلیے تیار ہو گئے جبکہ امریکی سینیٹرزجان مکین اور لنڈ سے گراہم نے مصری آرمی چیف عبدالفتح السیسی سے ملاقات کی ہے۔ روسی خبر رساں ادارے کے مطابق مصرکی فوج اورعبوری حکومت نے ملک میں جاری بحران پرقابو پانے کیلیے اخوان المسلمون کے اراکین کو رہا کرکے انھیں نئی کابینہ میں شامل کرنے کی تجویزدی ہے۔ مصری فوجی ذرائع اورسیاسی حلقوں کی جانب سے رائٹر نیوز ایجنسی کوملنے والی اطلاعات کے مطابق اخوان المسلمون کے منجمد کھاتے بحال کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی سینیٹ رزجان مکین اور لنڈ سے گراہم نے گزشتہ روزمصر کے آرمی چیف عبدالفتح السیسی سے ملاقات کی جس میں ملک میں جاری سیاسی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی دوران 6 برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے مصر کے وزیرخارجہ نبیل فاہمی سے ملاقات کی ہے۔ نائب صدرمحمد البرادعی نے اخوان المسلمون سے کہا ہے کہ وہ سیاسی بحران کے پرامن حل کی طرف پیش رفت کرے اوراپنے کارکنوں کی زندگیوں کو داؤ پر مت لگائیں۔انھوں نے کہا کہ اگر اخوان المسلمون نے احتجاج جاری رکھا تو انھیں کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے عوام کے غصے کے۔ دوسری طرف منگل کے روز بھی دارالحکومت قاہرہ میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کا احتجاج جاری رہااور انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مصرکے پہلے منتخب صدر کی بحالی تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دریں اثنا مصر کے پراسیکیوٹرز نے معزول صدر مرسی کے 2 حامیوں کو 15 دن حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ مرسی کے سیکریٹری احمدعبد لآتی اور سیکیورٹی مشیر ایمان ہدہد کو پچھلے دسمبر میں صدارتی محل کے باہر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیاہے۔

تبصرے بند ہیں.