کراچی: سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ برطانوی میڈیا کے سنگین الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پی سی بی اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے، اگر غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے تو مذکورہ اخبار پر کیس کردینا چاہیے۔ محسن حسن خان نے کہا کہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ اور ہمارے پلیئرز کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ایک برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے دعویٰ کیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز میں فکسنگ کے امکانات کی تحقیقات کرے گا۔ سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارا بورڈ اس قسم کی رپورٹس کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لے گا اس وقت تک غیرملکی میڈیا ہماری ٹیم کو بدنام کرتا رہے گا، بورڈ کو فوری طور پر اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ یہ رپورٹ فرضی اور ہماری کرکٹ کو نقصان پہنچانے کیلیے دی گئی ہے یا پھر اس میں کچھ حقیقت بھی ہے۔دونوں صورتوں میں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اگر رپورٹ جھوٹی ثابت ہوتی ہے تب پھر بورڈ کو مذکورہ اخبار کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہرجانہ طلب کرنا چاہیے اسی طرح ہم اپنے خلاف اس مہم کو ختم کرسکتے ہیں۔ سابق بیٹسمین اور کوچ محسن حسن خان نے کہا کہ اس رپورٹ میں نہ تو آئی سی سی کی جانب سے کوئی آفیشل بیان موجود ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت ہے، یہ پوری رپورٹ جھوٹی اور ہمارے کھلاڑیوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، بورڈ کو اس بارے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کی چیزوں سے کھلاڑیوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ پی سی بی کے سابق آفیشل عارف عباسی کا کہنا ہے کہ ہمارے چند کھلاڑیوں کی فکسنگ جیسی چیزوں میں ملوث رہنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم اب اس قسم کے الزامات کیلیے آسان شکار بن چکی ہے، اس میں بورڈ کا بھی قصور ہے جوکہ اس قسم چیزوں کو مناسب انداز میں ہینڈل نہیں کرتا۔
تبصرے بند ہیں.