Latest National, International, Sports & Business News

سموگ تدارک کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، درختوں کی کٹائی پر پابندی برقرار

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں کا 264 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جسٹس شاہد کریم نے فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے ماحولیاتی اور آبی تحفظ کو حکومتی فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے قرار دیا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، عدالت نے قرار دیا کہ ایک حکم یا ایک فیصلے سے ماحولیاتی بحران جیسے پیچیدہ مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں، ترقیاتی منصوبے ماحول اور قدرتی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر مکمل نہیں کیے جاسکتے۔لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کینال کے درختوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم حکم برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ یلو لائن منصوبے کے لیے کسی درخت کی کٹائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، عدالت کے مطابق یلو لائن منصوبہ تاحال منصوبہ بندی اور فزیبلٹی کے مرحلے میں ہے اور اس کا حتمی فزیبلٹی پلان یا پی سی ون منظور نہیں ہوا۔فیصلے میں واٹر اینڈ انوائرمنٹ کمیشن کے ارکان کی ماحولیاتی تحفظ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں سول ایوارڈز دینے کی سفارش بھی کی گئی، عدالت نے قرار دیا کہ ماحولیاتی معاملات میں مسلسل عدالتی نگرانی اور حکومت سے عملدرآمد رپورٹس لینا انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔فیصلے میں گزشتہ آٹھ برس کے دوران پانی، ہوا، درختوں، زمین اور شہری ماحول کے تحفظ کے لیے کیے گئے عدالتی اقدامات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانوں کی پیدا کردہ عالمی تباہی ہے، فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تہذیب اور قدرتی دنیا کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔عدالت کے مطابق لاہور میں وضو کے پانی کو محفوظ کرکے پارکس کی آبپاشی کا نظام متعارف کرایا گیا، جبکہ بارش کا پانی محفوظ کرنے کے لیے متعدد زیرزمین ٹینکس تعمیر کیے گئے، گڑھی شاہو، شیرانوالہ گیٹ، لارنس روڈ اور قذافی سٹیڈیم میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے مکمل ہوئے، قذافی سٹیڈیم میں زیرزمین ٹینک کی گنجائش 40 لاکھ گیلن ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی اقدامات کے نتیجے میں لاہور کا زیرزمین پانی گزشتہ پانچ سال سے مزید تنزلی کا شکار نہیں ہوا، نئے بلڈنگ پلان میں رین واٹر ہارویسٹنگ لازمی قرار دی گئی جبکہ ایک کنال یا اس سے بڑے گھروں میں گرے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لازم کیا گیا، پنجاب میں زیرزمین پانی استعمال کرنے والوں سے ایکوافر چارجز کی وصولی کا نظام بھی نافذ کیا گیا۔فضائی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ لاہور کی مقامی فضائی آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ تقریباً تراسی فیصد ہے، پنجاب کے تمام اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا جبکہ درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی عائد کرکے ترقیاتی منصوبوں میں درختوں کا تحفظ لازم قرار دیا گیا۔فیصلے کے مطابق درخت کاٹنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے گئے جبکہ لاہور میں باون میاواکی اربن فاریسٹ قائم کیے جاچکے ہیں، ان جنگلات نے شہری گرین کور اور ماحولیاتی معیار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔عدالت نے پلاسٹک بیگز کے استعمال کے خلاف پنجاب بھر میں پابندی پر عملدرآمد تیز کرنے اور خلاف ورزی کرنے والی دکانیں سیل کرنے سمیت پانچ ہزار سے بیس ہزار روپے تک جرمانے کی کارروائی کا حکم دیا، سموگ کو پنجاب میں آفت قرار دے کر مختلف محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائیوں کا پابند بھی بنایا گیا، لاہور کے ماسٹر پلان دو ہزار پچاس کے حوالے سے بھی فیصلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی، عدالت نے قرار دیا کہ ماسٹر پلان دو ہزار پچاس کو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق شہری ہارون فاروق کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کیے گئے عدالتی اقدامات کو جاری رکھنے اور حکومتی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کو فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ بنانے پر زور دیا۔

تبصرے بند ہیں.