Latest National, International, Sports & Business News

ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے محفوظ فیصلہ سنایا، عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم سنا دیا، عدالت نے 10 سال قید اور بیس لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا۔پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین اور ثنا یوسف کے وکیل سردار قدیر عدالت پیش ہوئے، ثنا یوسف کے والد اور والدہ بھی عدالت میں موجود تھے۔قبل ازیں دوران سماعت عدالت میں عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے، مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ ملزم عمرحیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ذاتی رنجش کے باعث ملزم کو سزائے موت دینا زیادتی ہوگی، پہلے سےسوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہی دینی ہے، یہ زیادتی ہوگی۔ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی، لبرل سوسائٹی کے ڈر سے ثنا یوسف کیس کا فیصلہ نہیں کریں، کیس کو خواتین پر مبنی معاشرتی بحث کی طرف نہ لے جائیں۔اس پر جج افضل مجوکہ نے ملزم کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو گمراہ نہ کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا، عمر حیات نے کہا تھا کہ اس نے ثناء کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا کوئی انکشاف نہیں کیا، میرا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔اس پر جج نے استفسار کیا کہ دوران تفتیش ثناء یوسف کے فون سے کاکا کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، موبائل فارنزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، اس پر کیا کہیں گے؟ اس پر عمر حیات نے کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر کوئی جواب نہیں دے سکتے ہیں۔یاد رہے کہ ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو گھر میں قتل کیا گیا، 3 جون کو پولیس کیجانب سے ثناء یوسف کے قاتل کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا، 13 جون کو شناخت پریڈ کے دوران چشم دید گواہان نے ملزم کو شناخت کیا۔حکومت کی جانب سے کیس میں راجہ نوید حسین کیانی کو اسپیشل پراسکیوٹر تعینات کیا، کیس میں مجموعی طور پر 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں، چالان میں مجموعی طور پر 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی، بعدازاں پراسکیوشن نے 4 گواہان کو ترک کردیا گیا تھا۔پراسکیوشن کی جانب سے 27 گواہان عدالت میں پیش ہوئے، مقدمہ کا ملزم عمر حیات جڑانوالہ والا کا رہائشی ہے، مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی چشم دید گواہان ہیں، 20 ستمبر کو ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 2 ہفتے سے زائد وقت کیلئے ٹرائل رکا رہا تھا۔

تبصرے بند ہیں.