اسلام آباد: پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے، بھارت پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے، اسرائیلی اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر قطر کی دعوت پر دوحا کا دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، افغانستان کے معاملات اور دفاع کے شعبے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی مؤقف پیش کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں، ترجمان نے مغربی کنارے کو اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت اور واضح مخالفت بھی کی۔ترجمان نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس کے حملے کی 19ویں برسی ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، پاکستان نے بھارتی حکومت کی سنگ دلی اور 4 مجرموں کی رہائی کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور دہشتگردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں، قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں، پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہیں۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، خصوصاً کشتواڑ ضلع میں 3 نوجوانوں کی شہادت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارت جعلی انکاؤنٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، پاکستان انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بھارت کو اپنے اعمال کا جوابدہ بنائے گا۔ترجمان نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونے والی بات چیت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حصہ ہے اور اس طرح کے بیانات ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں، افغانستان میں پاکستانی شہریوں اور سفیروں کی سکیورٹی کے حوالے سے آگاہ ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے، او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں۔ ترجمان نے آخر میں آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کی سالگرہ کو یادگار ملٹری واقعہ قرار دیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون سے آگاہ ہیں، پاکستان امن سے متعلق خطرات سے آگاہ اور ان کے لیے تیار ہے، بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر اسرائیل میں ہونے والے احتجاج پر یہی کہوں گا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہاں کچھ باضمیر لوگ اب بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر دوحا اور استنبول جیسا سٹرکچرڈ ڈائیلاگ فی الحال نہیں ہو رہا، افغان سرزمین پر دہشتگردوں کو میسر آزادی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم افغان حکومت سے وہاں موجود تمام پاکستانی سفارتکاروں اور شہریوں کو تحفظ کی فراہمی کا کہتے ہیں، کابل میں پاکستانی سفارت کاروں کو تحفظ کی فراہمی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تبصرے بند ہیں.