ڈھاکا: بنگلہ دیش ہاکی تنازع نے پاکستانی کوچ نوید عالم کو بھی لپیٹ میں لے لیا، ملکی ہاکی فیڈریشن سے ناراض بنگلہ ہاکی پلیئرز نے ٹریننگ کیمپ کا بائیکاٹ کیا۔ اس پر کوچ نویدعالم نے انھیں منانے کی کوشش کی تو انھوں نے ان پر ہی ہلہ بول دیا، نویدعالم نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے اس تمام صورتحال میں ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کو قائل کرنے کی اپنی سی کوشش کی تاکہ پلیئرز کیمپ میں آجائیں، انھوں نے میری بات سننے کی بجائے ڈائننگ ہال میں آکر مجھے اور پلیئرز کو دھمکیاں دیں اور اس میں سے ایک فرد نے مجھ پر کرسی پھینکنے کی بھی کوشش کی، مجھے بعد میں یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ وہ ہاکی پلیئرز ایسوسی ایشن کے آفیشلز تھے، میں نے اس سے قبل کسی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا ایسا طرزعمل نہیں دیکھا، اس تمام صورتحال پر بنگلہ دیش ہاکی فیڈریشن ( بی ایچ ایف) نے گورننگ باڈی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا،اسے ایشیا کپ کیلیے حتمی 18 رکنی اسکواڈ کی فہرست 31 جولائی تک ایشین ہاکی فیڈریشن کے پاس جمع کرانی ہے۔نوید عالم ایونٹ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو تیاریاں کرانے میں مصروف ہیں،بی ایچ ایف نے انھیں ہیڈکوچ کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یاد رہے کہ ٹیم انٹرکلب ٹرانسفرز اور سابق پلیئرز کیخلاف ایکشن پر ناراض ہے،ابتدائی طور پر وزیر کھیل و امور نوجواناں احدعلی سرکار نے معاملے حل کرنے کے لیے 2 اگست کی ڈیڈ لائن دی تھی، تاہم اسٹرائیکر جمی کو ابھانی ہاکی آفیشلز صلاح الدین ڈولون کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام دیے جانے پر پلیئرز دوبارہ بھڑک اٹھے، ڈولون کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے ہوپائی، جس پر انھوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ پلیئرز اور ان کے اہل خانہ سے معذرت بھی کی،کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ معافی کافی نہیں بلکہ ان کیخلاف آئندہ 24 گھنٹے میں سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔
تبصرے بند ہیں.